کراچی (نیوز ڈیسک)جیو کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں میزبان مبشر ہاشمی سے گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار عمارمسعود نے کہا ہے کہ عمران خان کے گرد گھیرا تنگ ہونے والا ہے ان کے سہارے ہٹ چکے ہیں جس کا اقرار وہ خود بھی کرچکے ہیں۔
ماہر نفسیات، سوشل میڈیا ایکسپرٹ (ڈنمارک) آر اے شہزاد نے کہا کہ توشہ خانہ کے حالیہ کیس کی جہاں تک بات ہے اسکینڈل پرانا تھا لیکن شاہزیب نے اس میں نئی روح پھونک دی اور ایک ایسی چیز لے کر آئے جس کا انکار کرنا تحریک انصاف کے لیے آسانی سے ممکن نہیں۔
تجزیہ کار اور صحافی رانا ابرار خالد نے کہا کہ توشہ خانہ میں عمران خان نے بطور وزیراعظم بہت بڑی گڑ بڑ کی ہے، عمران خان نے چند دن پہلے اعلان کیا ہے کہ فلاں فلاں ملک میں اس کیس کو عدالتوں میں لے جاؤں گا شاہزیب خانزادہ اور دیگر صحافیوں کے خلاف مقدمہ کروں گا، اس پر یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ کی حکومت بیس ستمبر 2021 کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں لے کر گئی تھی انتیس نومبر کو اس کی تاریخ ہے یہ اتنے بڑے دعویٰ نہ کریں اس تاریخ پر آجائیں میں بھی وہاں موجود ہوں گا جن جن پر آپ کا الزام ہے وہ سب وہاں موجود ہوں گے وہاں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔
نومبر 2020میں میرے ذرائع نے مجھے خبر دی تھی کہ توشہ خانہ میں عمران خان نے بطور وزیراعظم بہت بڑی گڑ بڑ کی ہے کچھ ثبوت بھی مجھے مل چکے تھے اس کے باوجود عمران خان میڈیا پر بار بار فیک نیوز کا الزام لگاتے ہیں میں چاہتا اس دن بھی یہ اسٹوری چھاپ سکتا تھا اس دن بھی یہ اسٹوری جینون ہوتی لیکن اس کے باوجود میں نے ایک آر ٹی آئی درخواست بھیجی تھی سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن کو جس میں پانچ سوال پوچھے تھے ۔ جس دن وزیراعظم نے حلف لیا اس سے لے کر آج تک غیر ملکی دوروں میں عمران خان کو کتنے تحائف ملے ہیں اور ان میں سے کتنے جمع کروائے اور کتنے وہ ریٹرن کر کے لے گئے ہیں اور جو ریٹرن کئے ہیں ان تحائف کی تفصیلات بتائی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ چوتھا سوال یہ تھا کہ جو تحائف ریٹرن کئے ہیں ان کی کتنی ادائیگی کی ہے اور کتنے فیصد کے حساب سے کی گئی ہے پانچواں سوال یہ تھا کہ جو تحائف کی ادائیگی کی گئی وہ کس اکاؤنٹ سے کی گئی ہے۔ رائٹ آف ایکس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017کے تحت تمام ڈیپارٹمنٹ پابند ہیں کہ دس دن کے اندر مطلوبہ انفارمیشن دے دیں مگر انہوں نے مجھے انفارمیشن نہیں دی۔
پھر میں نے پاکستان انفارمیشن کمیشن میں اپیل کی تھی جس کا ستائیس جنوری 2021 کو میرے حق میں فیصلہ آیا اور آرڈر ہوا کہ مطلوبہ انفارمیشن سات دن میں دے دی جائے اس پر بھی سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن نے عمل نہیں کیا اس دوران میں نے تین مرتبہ نفاذ کی درخواست دی اس پر بھی شارٹ آرڈر ہوئے ۔ کچھ تحائف مسنگ ہے تقریباً دو سے تحائف ہیں جن میں کچھ بہت قیمتی ہیں کچھ نارمل ہیں کچھ چھوٹی موٹی چیزیں ہیں اور کئی تحائف ایسے ہیں جن کی انٹری ہی نہیں ہوئی ہے کچھ تحائف ایسے ہیں جو اندرون ملک میں ملے تھے فاٹا میں انہیں انٹیک بندوقیں دی گئیں کراچی پشاور گلگت بلتستان میں وہ تحائف رول ہی نہیں ہے کہ کوئی ریٹیل کرسکے ۔ انہوں نے اس تحائف کی کاپی تیار کروا کر مارکیٹ سے وہ توشہ خانہ میں رکھ دئیے اور تحائف گھر لے گئے۔
پہلے ہمارا اندازہ تھا ایک ارب کا معاملہ ہے لیکن یہ معاملہ ڈھائی ارب سے اوپر جاچکا ہے اس وقت یہ کیس جتنا منظر عام پر آیا ہے وہ تیس فیصد ہے مکمل کیس ابھی سامنے بھی نہیں آیا۔ ان تحائف میں کیش رپورٹ نہیں ہوا ہے لیکن امکانات موجود ہیں مگر میں ذمہ داری سے نہیں کہہ سکتا کہ کیش شامل ہے یا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈی جی نیب راولپنڈی آفس توشہ خانہ کی تحقیقات شروع کر چکا ہے دو ہفتے پہلے انہوں نے مجھے بلایا تھا اس کیس پر پہلی دفعہ ایک گھنٹہ بیس منٹ بریفنگ دی جس کے بعد کچھ ایکشن اور ڈائریکشن طے ہوئی تھیں اس پر عمل بھی ہوا نیب کی ٹیم توشہ خانہ گئی ریکارڈ لے کر آئی دوبارہ ایک گھنٹے بات کی کچھ ایکشن مزید ڈیفائن ہوئے ہیں۔
یہ کہا جاتا ہے کہ قانونی طور پر تحائف لیے گئے اور قانونی طور پر بیچ دیئے گئے توشہ خانہ رولز کے مطابق کوئی پاکستان کا حکومتی عہدیدار غیر ملکی دورہ کرتا ہے اس کو جو تحائف ملتے ہیں اس ملک میں ہمارا جو سفیر ہے وہ پابند ہے کہ توشہ خانہ کو رپورٹ دے گا ان تحائف کی تفصیل کا وہ سرکاری اہلکار لے کر آئیں گے اور توشہ خانہ لے جائیں گے اس کے بعد درخواست جمع ہوتی ہے کہ یہ تحفہ ریٹرن کرنا چاہتا ہوں اور تمام قوانین کی پابندی کروں گا جب وہ درخواست موصول ہوتی ہے تو وہ پھر پابند ہے کہ خط لکھ کر ایف بی آر سے اپریزل بلائے اور ایک مارکیٹ سے بلائے وہ دونوں اس کی قیمت کا تعین کرتے ہیں اگر مشکل ہو تو کسٹم کا ایگزمینر بلایا جاتا ہے عمران خان کے کیس میں کسی ایک دورے میں بھی سفیر نے رپورٹ نہیں دی اگر سفیر کی موجودگی میں نہیں دیئے گئے تو یہ بہت بڑا اسکینڈل ہے لیکن ہماری معلومات کے مطابق ان کی موجودگی میں تحائف دیئے گئے اور انہیں رپورٹنگ سے روک دیا گیا۔
سب سے پہلے جو قانون توڑا گیا وہ سفیر کو روکنا تھا اور انہیں دھمکی دے کر روکا گیا کہ آپ نے رپورٹنگ نہیں کرنی۔ تین گھڑیاں ہیں ایک گراف کی اور دو رولیکس کی ان کی اپریزل موجود تھی وہ اپریزل بھی ایک لطیفہ سے کم نہیں وہ وائٹ پیپر کے اوپر سادہ کاغذ پر بال پین سے لکھا ہوا ہے اپریزل بائی ایف بی آر نیچے لکھا ہوا ہے ون ریسٹ واچ بریکٹ میں آگے قیمت لکھی ہوئی ہے اگر میں بھول نہیں رہا تو آٹھ کروڑ پینتیس لاکھ روپے نیچے کسی کے سائن نہیں ہیں نہ نام ہے نہ تاریخ ہے۔مجھ سے شیئر نہیں کی گئیں تھیں انہیں حکومت نے پورا زو ر لگا کر مجھ سے چھپایا ۔جعلی اپریزل کرائی گئی جو ملازمین نے ہاتھ سے لکھ کر فائل میں رکھ دی میری معلومات کے مطابق کم قیمت لگائی گئی ہے اور اس کا بیس فیصد ادا کیا گیا ہے اور ادائیگی کسی ایک گفٹ میں بھی عمران خان کے اکاؤنٹ سے نہیں ہوئی بلکہ ادائیگی خریداروں نے کی ہے مڈل مین نے کی ہے۔
عمران خان کی جو کچن کیبنٹ تھی ان سے کہا جاتا تھا چوہدری صاحب یہ تحائف آپ اٹھائیں گے یا بخاری صاحب آپ اٹھائینگے اگر آپ نے لینے ہیں تو اس کی بیس فیصد ادائیگی آپ نے کرنی ہے پھر مارکیٹنگ آپ نے کرنی ہے ان کو بیچنا ہے اور جو پرافٹ ہوگا وہ ففٹی ففٹی ہوگا بلکہ کئی کئی حصے دار ہوتے تھے یہ بولیاں لگتی تھیں بنی گالہ میں اور یہ لوگ ہنستے تھے کہ فلاں ملک کا دورہ آرہا ہے اس کی پیمنٹ کون کریگا؟
تجزیہ کار عمارمسعود نے کہا کہ عمران خان کے معاملے میں نئی بات یہ ہے کہ آج تک کسی نے ایسا نہیں کیا کہ تحفے کو کم قیمت میں بیچ دیا ہو المیہ یہ ہے کہ یہ خبر اس ملک میں بھی پہنچ گئی ہے جہاں سے تحفہ لیا تھا اور پھر اس کو جتنی کم قیمت پر بیچا گیا جس کی مالیت ایک ارب ستر کروڑ بتائی جارہی ہے اور اس کو اٹھائیس تیس کروڑ میں بیچ دیا گیا اس لیے عام آدمی سوچتا ہے کہ عمران خان کو سزا کرپشن کی ملنی چاہیے یا حماقت کی ملنی چاہیے۔









