اسلام آباد ( ملک نجیب ) وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے انتخاب کو کالعدم قرار دینے سے متعلق درخواست کو سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ، عدالت نے عدالتی معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کردیا۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔ سہیل آفریدی کے بطور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا انتخاب کے خلاف درخواست شیر افضل مروت نے دائر کر رکھی ہے جس میں علی امین گنڈاپور کی بطور وزیراعلیٰ بحالی کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
دوران سماعت درخواست گزار شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ علی امین گنڈاپور نے رضاکارانہ طور پر وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ سزا یافتہ بانی پی ٹی آئی کے کہنے پر ان سے استعفیٰ لیا گیا۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اس کیس میں آئینی نکتہ کیا ہے؟شیر افضل مروت نے جواب دیا کہ آئین کی منشا یہ ہے کہ عوامی عہدیدار رضاکارانہ طور پر ہی مستعفی ہو سکتا ہے ۔
علی امین گنڈاپور نے اپنے استعفے میں لکھا تھا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر مستعفی ہو رہے ہیں ۔ درخواست گزار کے وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ گورنر نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا۔
مزیدپڑھیں:بانی پی ٹی آئی جیسی طبی سہولیات کا مطالبہ، وفاقی آئینی عدالت کا اہم اقدام
دو دن بعد ایک اور استعفیٰ دیا گیا تاہم گورنر کی جانب سے اسے بھی منظور نہیں کیا گیا تھا ۔ اس پر جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دئیے کہ دو دن بعد ایک اور استعفیٰ دیا گیا تھا، دوسرا استعفیٰ بھی شاید منظور نہیں کیا گیا تھا۔
شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ گورنر کی جانب سے استعفیٰ منظور کرنا ضروری ہے تاکہ وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کیا جاسکے۔ درخواست گزار کے وکیل نے نوازشریف پارٹی صدارت کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ نااہل شخص پراکسی کے ذریعے ریاست نہیں چلا سکتا۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے جب علی امین گنڈاپور کو استعفیٰ دینے کی ہدایت کی تو وہ نااہل تھے ۔ نااہل شخص کا پراکسی کے ذریعے ریاست چلانا آئین کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے ۔
وفاقی آئینی عدالت نے درخواست کو ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت فریقین کو نوٹس جاری کردیئے جبکہ عدالتی معاونت کے لئے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کر دیا ۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی ۔









