ملتان(ممتا زنیوز)انڈونیشیا کے پاکستان میں سفیر آدم مولاوارمین توجیو نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان ہمیشہ مثالی تعلقات رہے ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈونیشیا اسلامی ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان کو اپنا برادر اسلامی ملک سمجھتا ہے۔انڈونیشیا کو جب بھی کسی مصیبت یا آفت کا سامنا کرنا پڑا،پاکستان فوری طور پر امداد کے لئے آگے بڑھتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک کے معروف صنعت کار اور ملتان و ڈیرہ غازی خان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر خواجہ محمد جلال الدین رومی سے ان کے کیمپ آفس میں ملاقات میں کیا۔انڈونیشیا کے سفیر نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا مختلف بحرانوں کی وجہ سے معاشی کساد بازاری کا شکار ہے۔لیکن ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ جلد ہی اس بحران کا خاتمہ ہو گا۔دنیا بھر میں ایک مرتبہ پھر معیشت کا جام پہیہ رواں دواں ہو گا۔ اس موقع پر خواجہ جلال الدین رومی نے انڈونیشیا کے سفیر کو ملتان میں خوش آمدید کہا اور جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں دورے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح پاکستان اور انڈونیشیا میں کاروباری تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔ انھوں نے رومی فاونڈیشن کے تحت ہونے والے رفاہی منصوبوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت جنوبی پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے مختلف علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی کے ساتھ صحت عامہ کے مختلف منصوبوں پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔اس پر انڈونیشیا کے سفیر آدم مولاوار مین تو جیو نے رومی فاونڈیشن کے منصوبوں کی تعریف کی اور کہا انڈونیشیا کی طرف سے کسی بھی کے تعاون اگر ضرورت محسوس کریں تو ہماری خدمات حاضر ہیں۔انڈونیشیا کے سفیر نے مزید کہا کہ ہماری حکومت کی پالیسی ہے کہ پاکستان سے تجارت اس انداز سے کی جائے کہ ہم ٹیکسٹائل انڈسٹری اور دیگر تجارتی شعبوں کو ٹیکنیکل سپورٹ کے ذریعے مضبوط کر سکیں۔ انڈونیشیا کے سفیر نے مزید بتایا کہ ہم اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ای روزگار پروگرام اور یوتھ ایکسچینج منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تجارتی تعلقات قائم ہو سکیں۔خواجہ محمد جلال الدین رومی نے اس موقعہ پر کہا انڈونیشیا کے ساتھ تجارتی اور ثقافتی پاکستان کی پہلی ترجیح ہے۔یہی وجہ ہے کہ انڈونیشیا نے ہر دور میں ہماری سپورٹ کی ہے۔بلکہ مشکل وقت میں وہ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان ای روزگار پروگرام اور یوتھ ایکسچینج منصوبوں پر کام کر رہے ہیں،سفیر








