بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مختصر مدت میں انقلابی اقدامات،پرویزالٰہی نے خدمت کی سیاست کی نئ تاریخ رقم کردی، نوابزادہ ایاز نیازی

اسلام آباد (ممتازرپورٹ )وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر نوابزادہ محمد ایاز خان نیازی نے کہا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی نے بطور وزیراعلیٰ خدمت کی سیاست کی نئ تاریخ رقم کی ہے، پنجاب میں چار نئے اضلاع کا قیام ان کا تاریخی کارنامہ ہے،اس سے نئ ملازمتیں پیدا ہوئیں اور عوام کا میعار زندگی بہتر ہوا،انہوں نے مختصر مدت میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کےلیے انقلابی اقدامات کیے۔
منگل کو دئیے گئے اپنے خصوصی انٹرویو میں نوابزادہ ایاز خان نیازی نے کہاکہ چودھری پرویز الٰہی کی قیادت میں پنجاب تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے، 100 ارب روپے سے پنجاب احساس راشن رعایت پروگرام شروع کیا ہے،احساس راشن پروگرام سے 80 لاکھ مستحق خاندانوں کو آٹا، دالیں، کوکنگ آئل اور گھی 40 فیصد سستا مل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام سابق وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے، سیلاب متاثرہ 3 اضلاع کے لوگ بھی اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں، احساس راشن رعایت پروگرام غربت کے خاتمے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی صحت کارڈ ہماری حکومت کے فلیگ شپ پروگرامز میں سے ایک ہے، جس سے تقریباً 50 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کی جا چکی ہے، قومی صحت کارڈ سے اب تک 22 لاکھ مریضوں کا مفت علاج ہوچکا ہے، قومی صحت کارڈ سے کینسر کے 54 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا جاچکا ہے، گردے کے 4 لاکھ 83 ہزار سے زائد مریض مفت علاج کی سہولت حاصل کرچکے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے صوبے میں گریجویشن تک تعلیم مفت کرنے کا اعلان کیا ہے،پرویز الٰہی سے بڑھ کر پنجاب کیلئے کسی حکمران کی سوچ فلاحی نہیں رہی۔
ایازخان نیازی نے کہا کہ چودھری پرویز الٰہی کی قیادت میں 2002ء سے 2007ء تک پنجاب میں جو بے مثال اور لازوال عوامی اور فلاحی کام ہوئے، وہ آج تک اہل پنجاب کی زبان پر ہیں،پرویز الٰہی کے اس 5 سالہ دور حکومت میں پنجاب میں شاید پہلی بار حقیقی معنوں میں وہ انقلابی منصوبے شروع کئے گئے جن کی بدولت صوبے میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ، پرویز الٰہی کی شاندار قائدانہ صلاحیتوں کا اس سے بڑھ کر ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ ایک طرف انہوں نے اپنے دور حکومت میں پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 120ارب سے بڑھا کر750ارب روپے کر دیا اور دوسری طرف جب وہ بے پناہ ترقیاتی کام کرنے کے بعد حکومت سے رخصت ہوئے تو انہوں نے صوبائی خزانے میں 100 ارب روپے کی خطیر رقم سرپلس بھی چھوڑی، پرویز الٰہی نے دن رات کی محنت شاقہ کے بعد صوبہ پنجاب کو زبردست فلاحی منصوبوں کے ذریعے ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا، تعلیم ہو یا صحت کا میدان، صنعت ہو یا زراعت، انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی ہو یا معیشت کا میدان، چودھری پرویز الٰہی نے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
انہوں نے کہاکہ صوبے میں پہلی بار میٹرک تک تعلیم مفت کر دی گئی دو کروڑ 80لاکھ طلباء کو مفت کتابیں فراہم کی گئیں، علاوہ ازیں گیارہ لاکھ طالبات کے مالی وظائف کا اجراء کیا گیا، ان اقدامات کے ذریعے شرح خواندگی 47 فیصد سے بڑھ کر 62 فیصد ہو گئی۔ شعبہ تعلیم کے بجٹ میں ریکارڈ 155 فیصد اضافہ کیا گیا، جس کی بدولت ایک پڑھا لکھا پنجاب دکھائی دینا شروع ہو گیا، 50 ہزار نئے اساتذہ کی بھرتی کی گئی، اگر اعلیٰ تعلیم کی بات کی جائے تو سرکاری اور نجی شعبہ میں 18 نئی جامعات کا قیام عمل میں لایا گیا، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے صوبہ بھر کے سکولوں اور کالجوں میں آئی ٹی لیبارٹریز کا قیام عمل میں لایا گیا، لاکھوں اساتذہ کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے بین الاقوامی معیار کی پیشہ وارانہ تربیت فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہاکہ فنی تعلیم کے بجٹ میں 118 فیصد اضافہ کیا گیا، صوبے بھر میں 24 نئے گورنمنٹ ٹیکنیکل سنٹر قائم کئے گئے، خصوصی تعلیم کے شعبے میں بھی بے مثال اقدامات کئے گئے، خصوصی تعلیم کے بجٹ میں 200 فیصد اضافہ کیا گیا، خصوصی بچوں کے لئے 119 نئے تربیتی و تعلیمی ادارے قائم کئے گئے، خصوصی افراد کیلئے صوبے میں پہلے ڈگری کالجز قائم کئے گئے، خصوصی افراد کو مفت کتب، وہیل چیئر، مصنوعی اعضاء اور آلہ سماعت کی فراہمی یقینی بنائی گئی، اس شعبے کے اساتزہ کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ کیا گیا،چودھری پرویز الٰہی کی حکومت کے طرف سے کئے گئے ان اقدامات کی تعریف عالمی سطح پر بھی کی گئی۔ ورلڈ بنک کے صدر اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن نےسی این این پر دیئے گئے اپنے انٹرویو میں کھل کر اس حقیقت کا اظہار کیا کہ چودھری پرویز الٰہی حکومت نے صوبے میں تعلیم کے فروغ اور جہالت کے خاتمے کے لئے شاندار منصوبے شروع کئے ہیں، تعلیم کے ساتھ صحت کے شعبے پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی گئی، صحت کے بجٹ میں 135 فیصد کا اضافہ کیا گیا، تمام ڈسٹرکٹ، تحصیل اور دیہی ہسپتالوں میں مفت اور بلاتاخیر ایمرجنسی علاج اور جان بچانے والی ادویات کی مفت فراہمی کو یقین بنایا گیا، تمام ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں نئے ایمرجنسی بلاکس تعمیر کئے گئے، بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت میں پہلی مرتبہ ڈاکٹر تعینات کئے گئے، امراض قلب کے علاج کے لئے لاہور کے علاوہ پانچ ارب روپے کی خطیر رقم سے ملتان، فیصل آباد اور وزیرآباد میں برن یونٹس کا قیام عمل میں لایا گیا۔
ایازخان نیازی نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں معیاری ادویات کی فراہمی کو ایک شفاف طریقے کے تحت یقینی بنایا گیا۔ سرکاری شعبے کے ڈاکٹرز کی تنخواہوں اور دیگر مراعات میں سو فیصد اضافہ کیا گیا، نرسنگ کے شعبے میں جدید اصلاحات اور اعلیٰ تربیت کے ساتھ بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بین الاقوامی میعار کی حامل ریسکیو سروس 1122 کا آغاز کیا گیا، اس پروجیکٹ میں چودھری پرویز الٰہی اور ان کے بیٹے چودھری مونس الٰہی نے خصوسی دلچسپی لی اور ان کی ذاتی دلچسپی کی بدولت اس پروجیکٹ کی کامیابی کے لئے آسٹریا اور آسٹریلیا سے تجربہ کار ماہرین کی خدمات سے استفادہ کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ مارچ 2004ء تک وزیراعلیٰ کے دفتر میں ہر صبح بلاناغہ ریسکیو1122 کا اجلاس ہوتا تھا، جس میں وزیراعلیٰ خود اس حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لے کر موقع پر احکامات جاری کرتے تھے، اہل پنجاب اس بات کے گواہ ہیں کہ پرویز حکومت میں شروع کی گئی ریسکیو1122 سروس اب تک لاکھوں افراد کو بروقت طبی امداد کی فراہمی یقینی بنا چکی ہے، جس کی وجہ سے لاتعداد قیمتی جانیں یقینی موت سے بچ سکیں، ریسکیو اہلکاروں کی بین الاقوامی معیار کی ٹریننگ کو یقینی بنایا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ریسکیو1122 کا ریسپانس ٹائم ترقی یافہ ممالک کی ایمبولینس سروسز سے بھی کم ہو گیا یقینا اپنے باقی تمام فلاحی کاموں کے علاوہ محض اس ایک منصوبے کی بدولت ہی چودھری پرویز الٰہی اہل پنجاب کے دلوں میں گھر کر چکے ہیں۔ اگر زراعت کی بات کی جائے تو جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ صوبہ پنجاب کی اکثریت زراعت کے شعبے پر انحصار کرتی ہے لہٰذا چودھری پرویز الٰہی نے اس شعبے پر بھی خصوصی توجہ دی۔ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ساڑھے 12 ایکڑ اور اس سے کم زرعی اراضی پر کاشتکاروں کو ٹیکس معاف کر دیا گیا۔
ایک سوال کے جواب میں ایازخان نیازی نے کہا کہ پنجاب حکومت نے کسانوں کے لئے 5فیصد مارک اپ پر آسان قرضہ جات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ مویشی پال سکیم کے تحت کسانوں کو آسان شرائط پر 4.75 ارب روپے کے قرضہ جات فراہم کئے گئے۔ چودھری پرویز الٰہی کی قیادت میں ان زراعت دوست اقدامات کی بدولت ساٹھ سالہ ملکی تاریخ میں گندم، چاول، گنا اور کپاس سمیت دیگر اجناس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ زراعت پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ صنعتی شعبے پر بھی بھرپور توجہ دی گئی۔ پہلی بار چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے لئے سات فیصد فکسڈ مارک اپ پر قرضوں کی فراہمی کا آغاز کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ پنجاب انڈسٹریل ڈیویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمیٹی اور گھریلو صنعتوں کے فروغ کے لئے انٹرپرائز ڈیویلپمنٹ کمیٹی قائم کی گئیں، غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے ون ونڈو اسکیم کا اجراء کیا گیا، تمام اضلاع کی سطح پر منی انڈسٹریل سٹیٹس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 2004ء میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ڈیویلپمنٹ بورڈ قائم کیا گیا۔ صوبے کے آئی ٹی بجٹ میں 300فیصد اضافہ کیا گیا، ورلڈ بنک کے تعاون سے سرکاری ملازمین کو جدید کمپیوٹر ٹریننگ فراہم کی گئی۔
ایاز خان نیازی نے کہا کہ چودھری پرویز الٰہی عوام سے محبت کرنے والے راہنما ہیں، انہوں نے محفوظ پنجاب کے نظریے کے تحت جرائم کنٹرول کرنے کے لئے ہمہ گیر اقدامات کا آغاز کیا گیا، تھانہ کلچر کی حقیقی تبدیلی کا آغاز ہوا، ایف آئی آر کے اندراج کے لئے شہریوں کو ون ونڈو سہولت فراہم کی گئی، جرائم پر کنٹرول کی موثر پالیسی کے نتیجے میں صوبے بھر میں جرائم کی شرح میں 60 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کا ثبوت محکمہ جاتی اعداد و شمار ہیں۔
ایازخان نیازی نے کہا کہ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل پر قابو پانے کے لئے 2006ء میں پہلی پنجاب ٹریفک وارڈن سروس شروع کی گئی، جس کی بدولت ٹریفک سسٹم سے رشوت خوری کو ختم کیا گیا،مندرجہ بالا انقلابی اور فلاحی منصوبوں کی بدولت صوبہ پنجاب میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا، صوبے کی شرح نمو جو 2002ء میں محض 4.2فیصد تھی 2007ء میں بڑھ کر 8فیصد ہو گئی، فی کس ماہانہ آمدن جو 30821 تھی بڑھ کر 59219 ھوچکی ھے پنجاب بدل رہاہے، ماضی کا کوئی حکمران بھی خدمت کے میدان میں پرویز الٰہی کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔