بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کا باضابطہ پیپلز پارٹی چھوڑنے کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سابق ترجمان اور سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکر نے پارٹی رکنیت سے مستعفی ہونے کی تصدیق کردی۔
سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے پیپلز پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کی تصدیق کردی۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ میں اب پارٹی کا حصہ نہیں رہا، پارٹی کے لیے نیک خواہشات کا ظہار کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت ہی جواب دے سکتی ہے کہ سینیٹ رکنیت سے استعفیٰ کیوں لیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر کچھ لوگ شاید بلاول بھٹو سے سوال کرتے ہوں کہ اتنی خاس پوزیشن پراتنی جلدی کیسے اور وقت کے ساتھ انہوں نے سمجھا ہو کہ استعفیٰ لینا درست ہے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا اثر رسوخ بڑھتا جا رہا ہے، پہلے حدود عبور نہ کرنے پر بات کی جاتی تھی اور اب تو سیاسی جماعتوں نے بھی وہی فیصلے کرنا شروع کردیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے حکومت سے جانے کی وجہ ان کے کچھ فیصلے بھی تھے جو اسٹیبلشمنٹ کے برعکس تھے۔
سابق سینیٹر نے کہا کہ میں مایوس نہیں ہوں مگر دل مطمئن ہوں، میری بس میں جو بھی ہوگا، جتنی بھی وقت ہوگی آواز اٹھاتا رہا ہوں گا مگر اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرو گا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سیاسی جماعتیں سیاست میں بہتری اور پاکستان کے مفاد میں بات کرنے کے لیے اپنے اندر کھل کر سیاسی معاملات پر اظہار کرنے کی جگہ نہیں دیں گی اور وہاں اس ماحول میں حبس کا ماحول ہوگا تو وہ سیاسی تنظیمیں کم بادہشاہت زیادہ لگیں گی۔
سابق سینیٹر نے کہا کہ موجودہ حکومت ’ہائبرڈ ٹو پوائنٹ زیرو‘ ہے جیسا کہ شہباز شریف نے آتے ہی وہ فیصلے کیے جو عمران خان نے بھی نہیں کیے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ہم عمران خان کی سیاست، طریقہ کار پر تنقید کرتے تھے اور اس میں جو کچھ ہوا اس ماحول سے گزر کر سوچنا چاہیے تھا کہ ہمیں عمران کو جمہوری انداز میں جواب دینا تھا مگر ملک کو 90 کی دہائی میں دھکیل چکے ہیں اور اب عمران خان آیا تو وہ بھی بدلہ لینے کی سوچ رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی ماحول کی تلخی میں ہم ترجمان بنے بیٹھے حالانکہ ان سے حکومت کا تعلق نہیں۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ پی پی پی میں اتنا ہوں جتنا مفتاح اسمٰعیل مسلم لیگ (ن) میں ہیں، پیپلز پارٹی کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا، بلاول بھٹو زرداری کا ترجمان رہا اور سندھ سے سینیٹر بھی رہا۔
انہوں نے کہا کہ مزید جاری رکھنا اپنا ضمیر کمپرومائز کرنے کے مترادف ہے
سابق سینیٹر نے کہا کہ ہم توقع کر رہے تھے کہ عاصم منیر آرمی چیف بنے وہ چیزیں درست کریں گے کیونکہ پچھلے کچھ ماہ میں فوج کی مداخلت کی وجہ سے اس کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اب اسٹیبلشمنٹ کو پیچھے ہٹ کر راستہ دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں سیاسی جماعتوں کا خیال تبدیل ہوا ہے جیسا کہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری کے انٹرویوز موجود ہیں جو کہتے تھے کہ قبل از وقت انتخابات ہوں، اصلاحات ہوں، نیب ترامیم ہوں مگر اب انے کے خیالات تبدیل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب المیہ یہ ہوا ہے کہ حکومت نے جو وقت گزارا ہے اس سے عمران خان کی تمام کارکردگی پس پشت چلی گئی ہے اور اب کوئی سوال نہیں کر رہا کہ عمران خان نے نوکریاں، گھر دینے کا کہا تھا، مگر اس کے برعکس سارا ملبہ ہم نے خود پر لیا جبکہ ضمنی انتخابات میں لوگوں نے عمران کا ساتھ دیا۔

خیال رہے کہ 8 نومبر کو پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا تھا کہ میں بخوشی سینیٹ کی رکنیت سے مستعفی ہونے پر رضامند ہوں کیونکہ پارٹی کے سینئر رہنما نے مجھے بتایا کہ پارٹی کی قیادت میرے ’سیاسی مؤقف‘ سے خوش نہیں ہے۔
سماجی رابطے کے ویب سائٹ ٹؤئٹر پر جاری پیغام میں مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا تھا کہ آج پارٹی کے سینئر رہنما سے ملاقات ہوئی اورانہوں نے پیغام دیا کہ پارٹی قیادت میرے مؤقف سے خوش نہیں ہے اور سینیٹ کی رکنیت سے میرا استعفیٰ چاہتی ہے، میں بخوشی مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔
ان نے مزید کہاتھا کہ بطور سیاسی کارکن مجھے عوامی مفاد کے معاملے پر اپنی رائے کے اظہار کا حق ہے۔
قبل ازیں مصطفیٰ نواز کھوکھر نے چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان کی حیثیت سے استعفیٰ دیا تھا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا تھا کہ میں نے چیئرمین کے ترجمان کی حیثت سے استعفیٰ دیا ہے پیپلزپارٹی سے نہیں۔
انہوں نے لکھا تھا کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہیں گے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میں نے بطور ترجمان ایمانداری، خلوص اور ملک اور پارٹی کے بہترین مفاد میں مشورے دیے۔