بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سیاست میں کوئی چاشنی نہیں رہی، ایک ہی زلف کے سب اسیر ہیں، مصطفیٰ نواز کھوکھر

  اسلام آباد:پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہاہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ساتھ اچھا وقت گزرا، مشکور ہوں کہ انہوں نے سندھ سے مجھے سینیٹر بنایا۔
نجی ٹی وی سے گفتگوکے دوران اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ووٹرز کی نظر سے دیکھیں تو ہمارے معاشرے میں تمام جماعتیں دائیں بازو کی جماعتیں ہیں، اس ملک میں لبرل اور بائیں بازو کی جماعت کی بہت گنجائش ہے اور یہ گنجائش پاکستان پیپلز پارٹی میں ہے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی سے نکالے جانے کی وجہ بیان کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ چھوڑیں آگے بڑھیں۔
سابق سینیٹر کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی میں جانے کی خواہش نہیں، اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھنا چاہتا ہوں، کوشش ہے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑوں۔
انہوں نے معنی خیز انداز میں کہا کہ موجودہ دور کی سیاست میں کوئی چاشنی نہیں رہی، ایک ہی زلف کے سب اسیر ہیں، وہیں پر سب آشیرباد لینے جاتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں مصطفیٰ نواز نے اپنا سوال اٹھایا کہ عمران خان کی سیاست کو دیکھیں تو وہ کہتے ہیں کہ انہیں سازش کے ذریعے ہٹایا گیا یا جو بھی ان کا بیانیہ ہے، تو اگر یہ نکال دیں تو ان کے پاس معیشت اور ملک کو ٹھیک کرنے کا کیا پروگرام ہے؟
انہوں نے انسانی اور اظہارِ رائے کے حقوق پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دورِ اقتدار میں جو صحافی کمیونٹی کے ساتھ کیا گیا، ”آپ کو نشانہ بنایا گیا، آپ کو ٹرول کیا گیا، بہت کچھ کہا گیا، آپ کی ہمت ہے کہ آپ پھر بھی موجود رہیں، مقابلہ کرتی رہیں، ابصار عالم کے ساتھ کیا ہوا، مطیع اللہ جان کے ساتھ کیا ہوا، اسد طور کے ساتھ کیا ہوا؟“
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس چیز کو دیکھ کر عمران خان کی حکومت پر تنقید کی، تو آج جب ہماری حکومت ہے تو ہم کیوں صفائیاں دے رہے ہیں کہ اس طرح کے واقعات روٹین ہیں سیاست میں ہوتا ہے۔
ملک کے موجودہ حالات اور سیاسی طرزِ عمل میں تبدیلی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ بانی پاکستان کی بہن کو غدار کہا گیا، سانحہ مشرقی پاکستان ہوا، اس کے بعد یہ سب کچھ ختم ہوجانا چاہئیے تھا لیکن 75 سال میں کچھ نہیں ہوا۔
ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرنے پر اعتراض اٹھانے پر ان کا کہنا تھا کہ صورتِ حال بہت پیچیدہ بن گئی ہے، سوات کے اندر مظاہرے ہو رہے ہیں کہ یہ لوگ ہمیں اپنے بیچ قابلِ قبول نہیں ہیں۔
مصطفیٰ نواز نے کہا کہ قومی سلامتی کی جن میٹنگز میں میں شریک رہا، ان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہم نے ان کے ساتھ یہ چیزیں طے کرلی ہیں اور ان کی ری سیٹلمنٹ بھی کر رہے ہیں، لیکن لوگوں نے ری ایکشن دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی کی سمت کیا ہے، طالبان نے حکومت اور امریکہ کو بے دخل کیا تو کہا گیا راء اور بھارت نواز حکومت کا خاتمہ ہوا، لیکن اب یہی لوگ دہشتگردی میں ملوث افراد کو معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
اپنی برطرفی پر مصطفیٰ نواز نے شکوہ کیا کہ یہاں پر جب آپ کسی چیز کو ٹھیک کرنے کی نیت سے گفتگو بھی کریں گے تو آپ کو پسند نہیں کیا جائے گا۔
فوج کے غیر سیاسی ہونے کی بات پر انہوں نے کہا کہ سب اداروں کو آئینی کردارتک ہی محدود کرنے کی ضرورت ہے، ففتھ جنریشن وار کے نام پر صحافیوں کو غدار بنا دیا گیا تھا۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی صداقت علی عباسی کا کہنا تھا کہ عمران خان کے مخالفین کو توقع نہیں تھی کہ وہ حکومتیں ختم کردیں گے، 14 پارٹیاں پاؤں پکڑ رہی ہیں کہ ہمیں یہی وزیراعلیٰ منظور ہے آپ اسمبلیاں نہ توڑیں، چوہدری پرویز الہیٰ ہمارا پارٹنر ہے، ہم اور پرویز الٰہی اسمبلی توڑنے پر متفق ہیں۔