بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حسین حقانی بھی رجیم چینج سازش کا حصہ، باجوہ نے خفیہ طور پران کی خدمات لیں،شیریں مزاری

 اسلام آباد(ممتازنیوز) پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی سینئر نائب صدرڈاکٹر شیریں مزاری نے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کو بھی رجیم چینج کی سازش کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ جنرل باجوہ نے خفیہ طور پر حسین حقانی کی خدمات حاصل کیں،واضح طور پر انہیں تحریک انصاف کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے رکھا گیا تھا،دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ڈونلڈ لو کے حقانی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔اپنے ٹویٹس میں ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہاکہ حسین حقانی،جنرل (ر) قمرجاوید باجوہ کی تفصیلات اب عوام اور میڈیا میں موجود ہیں لیکن کچھ نکات غائب ہیں، میں ان خالی جگہوں کو پُر کرنے کی جسارت کر رہی ہوں کیونکہ ان کا تعلق تبدیلی حکومت کی سازش سے ہے، پہلے یہ پورا منصوبہ کابینہ کی منظوری کے بغیر اور پروکیورمنٹ کے طریقہ کار کو نظرانداز کرتے ہوئے خفیہ طور پر کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ ایک آفیشل میٹنگ ہوئی جہاں میں بھی دیگر عسکری قیادت کے ساتھ موجود تھی،ڈاکٹر شیریں مزاری میٹنگ میں جنرل باجوہ نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہم بیرون ملک پاکستانی ماہرین کو پاکستان کی خدمات حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کر پا رہے، جب ان سے پوچھا گیا کہ کس کی خدمات درکار ہے تو انہوں نے حقانی کے نام کامشورہ دیا،ڈاکٹر شیریں مزاری کے مطابق یہ ایک حیرت انگیز بات تھی،کوئی بھی حقانی کی خدمات کرنے کے خیال سے متفق نہیں تھا، یہی ہے کہ جنرل باجوہ نے خفیہ طور پر آگے بڑھنے اور سویلین حکومت کو مکمل طور پر لاعلم رکھنے کا فیصلہ کیا، اب ہم جان چکے ہیں کہ تبدیلی حکومت کی سازش کس طرح امریکہ اور مقامی سازشیوں سے منسلک تھی اور سائفر میں درج پیغام کس کے لیے تھا،ڈاکٹر شیریں مزاری کے مطابق واضح طور پر حسین حقانی کو تحریک انصاف کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے رکھا گیا تھا، حسین حقانی نے عمران خان حکومت کی خارجہ پالیسی کے خلاف اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ میں باجوہ کے بیان کی تائید کی،دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ڈونلڈ لو کے حقانی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔انہوں نے کہاکہ جب جنرل باجوہ نے اس سیمینار میں تقریر کی تو کچھ عجیب معاملہ رونما ہوا،کون سوچ سکتا تھا کہ ریاست کے اندر کی قوتیں حکومت کی تبدیلی کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے امریکہ سے مدد لیں گی، اشتعال میں آئے اور خوف وہراس پھیلائے بغیر ان نکات پر غور کرنے اور معاملے کا گہرائی سے جائزہ لیا جانا اہم ہے۔