بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مغربی ممالک میں گاڑیاں لیفٹ ہینڈ ڈرائیو ہوتی ہیں لیکن پاکستان میں رائٹ ہینڈ ڈرائیو کیوں ہوتی ہیں؟ دلچسپ وجوہات!

اس وقت دنیا کے 65 فی صد ممالک میں گاڑياں لیفٹ ہینڈ یا بائيں جانب سے ڈرائيو کی جاتی ہیں جب کہ پاکستان سمیت صرف 35 فی صد ممالک ایسے ہیں جہاں پر گاڑياں ڈرائيور دائيں جانب سے یعنی رائٹ ہینڈ سے ڈرائيو کرتے ہیں کیا کبھی آپ نے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی؟

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

آج ہم آپ کو پاکستان میں گاڑيوں کے دائيں جانب سے اور دنیا بھر میں لیفٹ ہینڈ سے چلانے کی کچھ وجوہات بتائيں گے جو یقیناً آپ کے لیے دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ معلوماتی بھی ہوں گی-رائٹ ہینڈ ڈرائيو اور لیفٹ ہینڈ ڈرائيو میں بنیادی فرقسب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ رائٹ اور لیفٹ ہینڈ ڈرائيو کا اصل میں مطلب کیا ہوتا ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

گاڑی چلاتے ہوئے ڈرائيور گاڑی کے جس جانب بیٹھتا ہے درحقیقت وہی اس کی ڈرائیو سائڈ مانی جاتی ہے۔پاکستان میں ڈرائيور دائيں جانب بیٹھ کر گاڑی چلاتا ہے اس وجہ سے اس کو رائیٹ ہینڈ سائڈ ڈرائيو کہا جاتا ہے اس جانب سے گاڑی چلانے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹریفک کے چلنے کا رخ بائيں جانب ہوتا ہے

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

یعنی ٹریفک کا بہاؤ بائيں جانب سے چلے گا اور اگر اوورٹیک کیا جائے گا تو وہ بھی اسی جانب سے کیا جا سکتا ہے-دنیا بھر میں لیفٹ ہینڈ ڈرائيو کی حیرت انگیز وجہاٹھاریوں صدی میں فرنچ ریولیشن کے دور میں وہاں پر ایک عجیب و غریب رواج موجود تھا جس کے مطابق فرانس کے شاہی خاندان کے افراد بائيں جانب سفر کرتے تھے

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

جب کہ عام عوام کو سڑک کے صرف دائيں جانب ہی چلنے کی اجازت تھی- یہی وجہ تھی کہ مغربی ممالک میں عام افراد کے لیے لیفٹ ہینڈ ڈرائيو استعمال کی جانے لگی-پاکستان میں رائٹ سائڈ ڈرائیونگ کی وجہدوسری جنگ عظیم کے بعد جب کہ بہت سارے ممالک میں انگریزوں نے اپنا اقتدار قائم کیا

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

ان ممالک میں آسٹریلیا، پاکستان، انڈيا بھی شامل تھے ان ممالک میں جب کہ انگریز اقتدار میں آئے تو انہوں نے فرانسیسی شاہی خاندان والے اصول کو ہی نافذ کیا اور انگریزوں کے لیے بائيں جانب جب کہ عوام کے لیے دائيں جانب کی ڈرائيو کا حکم جاری کیا گیا تاکہ عوام اور حکام میں واضح فرق ہو سکے-اگرچہ آزادی تو انگریزوں سے لے لی گئی مگر ان کے بنائے ہوئے اصول آج بھی ان ممالک میں قائم ہیں

اور یہاں کہ ڈرائيور دائيں جانب بیٹھ کر ڈرائيو کرتے ہیں جب کہ ٹریفک کا بہاؤ بائيں جانب سے ہوتا ہے اگر آپ کو یہ معلومات مفید لگے تو اس کو دوسروں تک ضرور شئير کریں –