اسلام آباد(ما نیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی معاشی درجہ بندی میں مزید تنزلی شکار ہو گئی، ایس اینڈ پی نے معیشتوں کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان کو بی نیگیٹیو سے سی سی سی پلس تک گرا دیا۔
سابق وفاقی وزیر خزانہ و سینئر مرکزی رہنما تحریک انصاف شوکت ترین کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک سکڑ چکے ہیں، سرکاری اعلامیے کے مطابق 16 دسمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران زرِمبادلہ کے ذخائر میں مزید 584 ملین ڈالرز کی کمی ہوئی، زرِمبادلہ کے ذخیرے میں اب محض 6.1 ارب ڈالرز ہی بچے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدمِ اعتماد لائی گئی تو زرِ مبادلہ کے ذخیرے میں ساڑھے سولہ ارب سے زائد ڈالرز موجود تھے، ایس اینڈ پی کی جانب سے معیشت کی درجہ بندی میں تنزلی ایک اور دہشتناک خبر ہے، بیرونی ادائیگیوں اور ملکی مالیات میں مسلسل بھونچال کی کیفیت خطرناک مستقبل کے اشارے دے رہی ہے، ایس اینڈ پی کی ریٹنگ میں تنزلی سے ذخائر مزید دباؤ کا شکار ہوں گے، نالائقوں کو معیشت تھما کر ملک و قوم سے انتقام لینے کا سلسلہ اب فوراً ترک کیا جانا چاہئے۔
ملک میں فوری انتخاب کے ذریعے سیاسی استحکام کو رستہ دیا جائے، معیشت کومکمل انہدام سے بچانے کیلئے سیاسی طور پر مستحکم اور قومی مینڈیٹ کی حامل حکومت ہی کارگر ثابت ہوسکتی ہے، عدمِ اعتماد سے قبل کی جانے والی تنبیہ کیطرح اب بھی ہماری نصیحت کو نظرانداز کیا گیا تو نتائج سوچ سے بڑھ کر خطرناک ہوں گے۔









