اسلام آباد (نیوزڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد میں شیڈول کے مطابق بلدیاتی انتخابات کرانے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بنچ کا فیصلہ چیلنج کر دیا گیا، الیکشن کمیشن کی اپیل پر رجسٹرار آفس نے اعتراض لگا دیا۔
الیکشن کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی، درخواست میں رہنما جماعت اسلامی میاں اسلم اور علی نواز اعوان کو فریق بنایا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے انٹرا کورٹ اپیل پر آج ہی سماعت کی استدعا کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے موقف اختیار کیا ہے کہ اتنے کم وقت میں بلدیاتی انتخابات کرانا ممکن نہیں، 14 ہزار سے زائد عملہ، سکول ٹیچرز اور دیگر ملازمین سرما کی تعطیلات پر ہیں۔
ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کی انٹراکورٹ اپیل پر رجسٹرار آفس اسلام ہائی کورٹ نے اعتراض لگا دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد اعتراض میں کہا گیا ہے کہ انٹرا کورٹ اپیل کے ساتھ دستاویزات نامکمل ہیں، الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر رہی ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے بھی اسلام آباد میں آج الیکشن کرانے کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اپیل دائر کی ،انٹراکورٹ اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ سنگل بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، حتمی فیصلے تک سنگل بنچ کافیصلہ معطل کیا جائے
یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو آج 31 دسمبر کو وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا تاہم وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کو سکیورٹی فراہم کرنے سے معذرت کر لی تھی اور الیکشن عملہ بھی فوری دستیاب نہیں تھا۔









