بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پرویزالٰہی کے پاس نمبرزپورے ہوتے تو اعتماد کا ووٹ لے چکے ہوتے،ملک احمد خان

اسلام آباد(ممتازنیوز) وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک محمداحمد خان نے کہاہے کہ بنی گالہ کیس میں ثاقب نثار کے فیصلے پر سخت اعتراض ہے، اس وقت گرینڈ ڈائیلاگ اور مفاہمت کی ضرورت ہے،عمران خان سے لاکھ اختلافات ہیں لیکن پھر بھی کہتاہوں کہ ہمیں بیٹھ کربات کرناہوگی، آئین ملک کی بقااسے چھیڑبیٹھے تو پھر درستگی نہیں ہوپائے گی،پرویزالٰہی کے پاس نمبرزپورے ہوتے تو اعتماد کا ووٹ لے چکے ہوتے ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ملک محمداحمد خان نے کہاکہ نوازشریف نیب کی حراست میں بیمار ہوئے ، ان کی بیماری کی تشخیص کے لئے ڈاکٹر شمسی آئے، ڈاکٹر نے کہاکہ بیماری کی شناخت نہیں ہوئی،لہذا نوازشریف کو ان کے معالج کے پاس بھیجاجائے ،ڈاکٹر کی رپورٹ عمران خان کو بھیجی گئی جس کے بعدنوازشریف کو نیب کی بلڈنگ سے ہسپتال منتقل کیا گیاتھا۔انہوں نے کہاکہ جب ای وی ایم کا معاملہ چلاتو میں نے جنرل باجوہ کو کہاتھا کہ ووٹنگ مشین سے معاملہ تہس نہس ہوجائے گا، جنرل باجوہ کو احساس تھا کہ عمران خان نے ملک کے لئے برا کیا،انہیں یہ بھی احساس تھا کہ پوری سپورٹ کے باوجود ان سے ملک نہیں چلا۔انہوں نے کہاکہ شوکت ترین نے معیشت کے لئے تباہ کن اقدام کیا ۔انہوںنے کہاکہ بنی گالہ کیس میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے فیصلے پر سخت اعتراض ہے،عمران خان کے بنی گالہ گھر کے لئے منی ٹریل درکارتھی،تاہم عمران خان کو ملنے والا این آراو اورصداقت وامانت کا سرٹیفکیٹ دونوں جنرل باجوہ کی مرہون منت ہیں ،جنرل باجوہ نے عمران کو نااہلی سے بچایا،عمران خان کو بچوانے میں جہانگیر ترین نشانہ بنے اور حنیف عباسی کے ساتھ تو بہت زیادتی ہوئی اس زیادتی کا مدوا تاریخ کر ے گی، پنجاب اسمبلی کے ممبرز کے کیس میں سپریم کورٹ نے کیس کو ری رائٹ کیا اس پر بھی مجھے اعتراض ہے ،سپریم کورٹ کا جج آئین کی صرف تشریح کرسکتاہے نئے سرے سے نہیں لکھ سکتا۔ایک سوال پرملک احمد نے کہاکہ 56 کمپنیاں چل جاتیں تو آج پنجاب کے حالات مختلف ہوتے، ثاقب نثار نے ہم سے پوچھا کہ ضائع پانی منیج کیون نہیں کیا جاتا میں اس پر حیران ہوا ،ثاقب نثار بتائیں عثمان بزدار نے لاہور کے لئےکیا کرلیا۔انہوںنے کہاکہ عمران خان پر سائفر،آئین شکنی، اسمبلی تحلیل کا مقدمہ بنناچاہئے،وقت ثابت کرے گا جتنی کرپشن اور بدانتظامی ان کے دور میں ہوئی کبھی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہاکہ مونس الٰہی کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ہم جنرل باجوہ کے کہنے پر عمران خان کے ساتھ گئے،میری اس بارے میں جنرل باجوہ سے بات ہوئی تو انہوں نے کہاکہ مجھے پرویزالٰہی کا فون آیا تھا ہمارے پاس مسلم لیگ والے آئے تھے تو میں نے کہاکہ آپ نے فیصلہ کرناہے بعد میں مونس الٰہی نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کے ساتھ جاناچاہئے میں نے کہاکہ آپ جو بھی فیصلہ کریں ہم غیرجانبدار ہیں۔ملک احمد نے کہاکہ میرایہ ماننا ہے کہ وزیراعلیٰ پرویز الٰہی اپنااعتماد کھوچکے ہیں، ان کی پارلیمانی پارٹی کے بیشترارکان سے ہماری بات ہوئی تووہ اسمبلی توڑنے کے عمرا ن خان کے فیصلے پر معترض ہیں،پرویزالٰہی کے پاس نمبرزپورے ہوتے تو اعتماد کا ووٹ لے چکے ہوتے۔