بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

رانا ثنااللہ کا افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں سے متعلق بیان اشتعال انگیز، بے بنیاد ہے، افغان طالبان

افغان حکام نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی افغانستان میں موجودگی کے حوالے سے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا بیان مسترد کرتے ہوئے ’اشتعال انگیز اور بے بنیاد‘ قرار دے دیا۔
افغانستان کی وزارت دفاع نے گزشتہ روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم ’ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی اور ممکنہ حملہ سے متعلق پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کے بیان کو اشتعال انگیز اور بے بنیاد سمجھتے ہیں۔‘
وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کے ثبوت موجود ہیں اور پاکستانی حکام کے ایسے بیانات دونوں برادر ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کو نقصان دیتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ افغانستان ہر تشویش کو سمجھوتے سے حل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ افغانستان اپنی علاقائی سالمیت اور آزادی کا دفاع کرنے لیے تیار ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ ملک کا دفاع کیسے کرنا ہے۔

خیال رہے کہ 30 دسمبر کو وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا تھا کہ خیبرپخونخوا کے جن علاقوں میں ٹی ٹی پی کی موجودگی ہے ان کو کلیئر کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا تھا کہ دہشت گرد گروہوں کے ساتھ بات چیت کا راستہ اختیار کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان ہمارا اسلامی برادر ملک ہے اس لیے سب سے پہلے افغانستان کو ٹی ٹی پی کی موجودگی کے حوالے سے بتائیں گے اور ان کے خلاف کارروائی کرکے دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کرنے کا کہیں گے۔
انہوں نے کہا تھا کہ اگر افغانستان ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر کارروائی نہیں کرتا تو پھر ’بین الاقوامی قانون کے تحت یہ حق حاصل ہے کہ اگر کوئی دہشت گروہ کسی اور علاقے میں موجود اپنے ٹھکانے سے حملہ کرنے کا منصوبہ کرے تو اس پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔‘
وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ اگر افغانستان سے کوئی جواب نہیں آتا تو پھر ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر کارروائی عمل میں لائے جائے گی۔
رانا ثنااللہ نے کہا تھا کہ اسلام آباد کو کوئی مخصوص خطرہ نہیں ہے مگر چونکہ وہ دارالحکومت ہے تو عام طور پر خطرہ رہتا ہے مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور اسلام آباد پولیس محتاط ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ بلوچستان میں عسکریت پسندوں کا کوئی واضح طور پر طالبان سے اتحاد نہیں ہے اور چاہے وہ مل کر یا الگ الگ حملہ کریں گے پھر بھی افواج پاکستان ان کو بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
رنا ثنااللہ نے ایسا بیان 30 دسمبر کو ہونے والے قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد کیے گئے فیصلوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ ملک کو چیلنج کرنے والوں کو پوری طاقت سے جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔