بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سولر پینل کا بڑھتا رجحان: مارکیٹ سے سولر میٹر غائب، قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ

ملک میں سولر پینل سے بجلی حاصل کرنے کے رجحان میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔سولر پینل لگوانے والوں کو آج کل بائی ڈائریکشنل میٹرز کی تنگی کا سامنا ہے۔ بجلی ترسیل کی کمپنیوں نے میٹرز کی شارٹیج کے باعث لوگوں کو اوپن مارکیٹ سے میٹر خریدنے اجازت دے دی ہے۔مارکیٹ میں سپلائی اینڈ ڈیمانڈ کے اصول کے مطابق اس وقت دستیاب میٹروں کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
خیال رہے کہ جو لوگ شمسی توانائی سے بجلی بنا رہے ہیں ان کو حکومت نے یہ سہولت دے رکھی ہے کہ وہ اپنی زائد بجلی حکومت کو بیچ سکتے ہیں۔
اس کے لیے ایک مخصوص میٹر لگانا پڑتا ہے جس کو بائی ڈائریکشنل الیکٹرک میٹر کہا جاتا ہے۔ مارکیٹ میں اس میٹر کی قیمت 11 ہزار روپے سے زائد تھی تاہم آجکل اس کی قیمت 22 ہزار روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی بجلی کی تقسیم کار سرکاری کمپنی لیسکو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’میٹروں کی عدم دستیابی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے بہت بڑی تعداد میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے پینلز لگانا شروع کر دیے ہیں۔ جس کی وجہ سے ڈٰیمانڈ زیادہ ہے۔ ہم نے میٹر کی قیمت نہیں بڑھائی بلکہ مارکیٹ فورسز کی وجہ سے قیمتیں بڑھی ہیں۔‘
خیال رہے کہ حکمراں سیاسی اتحاد پی ڈی ایم نے حکومت سنبھالنے کےبعد شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ٹیکسوں میں چھوٹ کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد سے شہریوں کی طرف سے سولر پینل لگانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔
لیسکو کے اعداد وشمار کے مطابق صرف لاہور شہر میں اس وقت 14 ہزار سے زائد بائی ڈائریکشنل میٹرز لگ چکے ہیں۔ جبکہ سال 2022 میں میٹروں کی درخواستوں میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سینکڑوں درخواستیں ابھی زیر غور ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان میں سولر پینل سے بجلی حاصل کرنے والوں کو بائی ڈائریکشنل میٹرز لگانے کی اجازت متعلقہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ذریعے سے بجلی کی قیمتوں کا نگران ادارہ نیپرا دیتا ہے۔