اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بنوں میں انسدادِ دہشت گردی ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کمپلیکس میں پیش آنے والے واقعے کے بعد سی ٹی ڈی کا ایک عہدیدار بہت پریشان نظر آیا۔ انہوں نے خط لکھ کر مسئلے کی نشاندہی کی لیکن پالیسی سازوں اور مبصرین نے ان کی بات پر دھیان نہ دیا۔
ایک نشریاتی ادارے میں شائع ہونے والے ان کے خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ پاکستان کو قومی سطح پر دہشت گردی کا سامنا ہے لیکن اس مسئلے سے صوبائی معاملے کے طور پر نمٹا جاتا ہے کیونکہ صوبے اس لعنت سے اپنے اپنے سی ٹی ڈی کے ذریعے نمٹتے ہیں۔
فی الوقت بیوروکریسی کے طرز عمل اور صوبائی رکاوٹوں کی وجہ سے انٹیلی جنس کی بنیاد پر تیار کی جانے والی رپورٹس کے پرسکون تبادلے میں مشکلات کا سامنا ہے، اسلئے بیک وقت مختلف صوبوں کو ساتھ ملا کر بروقت کارروائی کرنا ناممکن ہے۔
مثلاً، سی ٹی ڈی پنجاب کو اگر کسی مصدقہ معلومات کی ضرورت ہے جو اسے سی ڈی ڈی خیبر پختونخوا سے حاصل کرنا ہے، تو اس میں کئی صوبائی قواعد و ضوابط ہیں جو پورا کرنا پڑتے ہیں۔ اس طریقہ کار کے تحت معلومات ملنے تک نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔
اس کا متبادل طریقہ کار ذاتی تعلقات اور غیر رسمی چینلز کا استعمال ہے جو ہر مرتبہ کارگر ثابت نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، اگر سی ٹی دی کوئی قومی ادارہ ہوتا تو صوبوں کے درمیان معلومات اور رابطہ کاری کا تبادلہ فوراً اور آسان ہوتا۔ ضابطے کے مسائل کے علاوہ، مالی مسائل علیحدہ ہیں۔
نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی نے بھی وزارت داخلہ کو ایسی ہی تجویز پیش کی تھی۔ نیکٹا نے تجویز دی تھی کہ نیشنل سی ٹی ڈی کی ضرورت ہے تاکہ قومی اور ٹرانس نیشنل سطح پر دہشت گردی سے موثر انداز سے نمٹا جا سکے۔
اس کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ ادارے کو آئی جی رینک کے افسر کے ذریعے چلایا جا سکے اور نئی ایجنسی نیکٹا کی کمان میں کام کرے۔ نیکٹا کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کیلئے صوبائی ڈھانچے قومی اور ٹرانس نیشنل خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے کافی نہیں۔
انسداد دہشت گردی کا معاملہ صوبائی نہیں ہے، صرف پولیسنگ کا کام صوبائی نوعیت کا ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد جیسے ہی ٹی ٹی پی نے سر اٹھایا، اس کے بعد سے ٹی ٹی پی کی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔
عوامی مقامات پر دھماکے کرنے کی بجائے اب یہ تنظیم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدف بنا رہی ہے۔ گزشتہ سال دہشت گردی کے واقعات میں 2021ء کے مقابلے میں 60؍ فیصد اضافہ دیکھا گیا اور معاملہ تھمتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔ اوسطان ماہانہ بنیادوں پر 84؍ حملوں میں 48؍ افراد مارے گئے، جان سے جانے والے زیادہ تر افراد کا تعلق پولیس، پیرا ملٹری یا پھر فوج کے شہداء سے تھا۔
کے پی میں کام کرنے والی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو زیادہ نشانہ بنایا گیا، صوبے میں دہشت گردی کے 61؍ فیصد واقعات پیش آئے۔ پشاور، ڈیرہ اسمٰعیل خان، بنوں، لکی مروت اور فاٹا کے ضم کیے گئے اضلاع میں زیادہ پریشان کن واقعات پیش آئے۔
ٹی ٹی پی اور تحریک طالبان سوات بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ آخر الذکر تنظیم نے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا بلکہ ارکان قومی اسمبلی پر بھی حملے کیے۔ سڑک کنارے دھماکے کے واقعے میں حکومت نواز ایک اہم شخصیت سمیت 7؍ افراد ہلاک ہوئے۔
واقعے میں تحریک طالبان سوات ملوث تھی۔ صورتحال سے فیصلہ ساز بوکھلائے ہوئے ہیں۔
اکثر و بیشتر جو سوال کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ آخر یہ لوگ دوبارہ سر اٹھانے میں کیسے کامیاب ہوئے۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے علاوہ ایک اور غور طلب پہلو سابق کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی ان لوگوں کو واپس لانے کی نا عاقبت اندیشی پر مبنی سوچ بھی تھی۔
نیکٹا کا تجزیہ یہ کہتا ہے کہ جس وقت فوج نے آپریشن کرکے ٹی ٹی پی سے علاقے خالی کرائے، اس کے بعد سے ان علاقوں کا کوئی خیال نہ رکھا گیا۔ خالی کرائے گئے علاقوں میں باقاعدگی کے ساتھ پولیس کو متحرک رکھا جاتا اور ان علاقوں میں تعمیر و ترقی کرائی جاتی۔ ایسا کچھ نہیں کیا گیا اور پاکستان کو اب اسی مسئلے کا سامنا ہے۔









