بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پارلیمانی نمائندوں کو قوموں کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے ملکر آگے بڑھنا ہو گا،راجہ پرویز اشرف کا آسٹریلیا میں اسپیکرزکے رول پر منعقدہ تقریب سے خطاب

سڈنی (ممتاز نیوز)اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے آسٹریلیا کے شہر کینبرا میں اسپیکرز اور پریزائیڈنگ آفیسرز کے رول پر منعقدہ دولتِ مشترکہ کی 26 ویں کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ فعال پارلیمنٹ کے ذریعے قوموں کو ترقی کی جانب گامزن کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ جدید اور موثر اقدامات کی ذریعے عوام کی رہنمائی کر رہی ہے۔دنیا اس وقت بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔کورونا وائرس اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا کی معیشتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں سے آنے والی تباہی بھی انسانی زندگی کے لیے بڑا چیلنج ہے۔پاکستان کی عوام موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبرد آزما ہے ۔معاشی تباہی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل عوامی نمائندوں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔پارلیمانی نمائندوں کو قوموں کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے ملکر آگے بڑھنا ہو گا۔ عوام کے نمائندوں کی حیثیت سے نئے سماجی، ثقافتی،سیاسی اور اقتصادی نظام کو ایجاد کرنے کی ذمہ داری اراکین پارلیمنٹ پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری دور میں قومیں ہمیشہ ترقی کرتی ہیں۔ایک منصفانہ، مساوی اور جامع معاشرے کے حصول کے لیے انسانیت کے سفر میں صنعتی انقلاب کی ضرورت ہے۔حکومتوں کو جوابدہ بنانے میں عام شہری کی بامعنی شرکت ضروری ہے۔شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے عوام اور اس کی پارلیمنٹ کے درمیان خلا کو جمہوریت کے لیے خسارہ قرار دیا۔شفاف، منصفانہ اور قابل رسائی پارلیمنٹ جمہوریت کی عکاس ہے۔جمہوریت کے فروغ کے لیے عوام اور پارلیمانوں کے درمیان تقسیم کو ختم کرنا ہو گا۔پہلا 5 سالہ نیشنل اسمبلی سٹریٹجک پلان (NASP) 2008 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ 2014 میں ہمارے تجربات کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا گیا۔ بعد میں اس میں مزید بہتری لائی گئی اور تیسرا اور موجودہ 5 سالہ NASP 2019 میں لکھا گیا۔سالانہ ورک پلان اور قومی اسمبلی کے ہر محکمے کو اسٹرٹیجک پلان میں مقرر کردہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اپنی سالانہ بجٹ کی ضروریات کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی اسمبلی میں خصوصی اقدامات کے خصوصی طور پر بنائے گئے ونگ کے ذریعے پورے عمل کی باقاعدگی سے نگرانی اور جائزہ لیا جاتا ہے۔ جس کے تحت ایک پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کو NASP کا سیکرٹریٹ سونپا گیا ہے۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ 2009 میں وویمن پارلیمانی کاکس تشکیل دیا گیا تھا۔ جس میں تمام خواتین پارلیمنٹرینز کو برابر نمائندگی دی گئی ہے۔ جسے 2010 کی بین پارلیمانی یونین رپورٹ، CPA پبلیکیشنز اور اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیوں نے رول ماڈل کے طور پر مانا ہے۔ دوسرا مرحلہ 2014 میں پائیدار ترقیاتی کے اہداف پر خصوصی پارلیمانی ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔پاکستان کی پارلیمنٹ پہلی بار پارلیمنٹ بنی جس نے اپنے ترقیاتی ایجنڈے کو MDGs سے SDGs میں منتقل کیا۔ اس گروپ کی کارکردگی اور اندازہ ایک مثال سے لگایا جا سکتا ہے۔ توانائی کے تحفظ کے لیے پاکستان کی پارلیمنٹ ون میگا واٹ سولر سسٹم لگا کر پہلی بار 100 فیصد گرین پارلیمنٹ بن گئی۔ پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے دوران پارلیمانی SDGs سیکرٹریٹ نے اہم کردار ادا کیا۔پارلیمنٹ نے شرم الشیخ میں COP 27 میں بین الاقوامی کانفرنس میں دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان عالمی ماحولیاتی تباہی کا شکار ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم اور معاشرے کی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ نوجوان ایک محفوظ اور روشن مستقبل کی خواہش رکھتے ہیں۔پاکستان کی پارلیمنٹ میں بنایا گیا ینگ پارلیمنٹرینز فورم نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔یہ فورم نا صرف نوجوانوں بلکہ پارلیمنٹ اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔نئی ٹیکنالوجیز کو اختراع کرنے اور ان کے مطابق ڈھالنے میں نوجوانوں کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔نوجوان جمود کو توڑنے اور سوشل اور سائبر میڈیا پر مواصلت کی موثر حکمت عملی تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔سال 2022 میں پاکستان کی آزادی کا 75 سال مکمل ہوئے ہیں۔پاکستان کی 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر پارلیمنٹ میں ڈائمنڈ جوبلی منائی گئی۔ ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا ۔