بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومت مہنگائی کے طوفان پر قابو پانے کیلئے ہنگامی اقدامات کرے۔احسن ظفر بختاوری

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری نے ملک میں تاریخی مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کیا کیونکہ اس سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے اور کاروبار بھی متاثر ہو رہا ہے لہذا انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ مہنگائی کے طوفان پر قابو پانے کیلئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوری 2022میں مہنگائی کی اوسط شرح تقریبا 13.30فیصد تھی جو جنوری 2023میں بڑھ کر 30فیصد سے تجاوز کر چکی ہے جو ایک سال میں مہنگائی میں تاریخی اضافہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بیورو آف شماریات کے اعداد وشمار کے مطابق ایک سال میں پیاز کی قیمت میں 00 5فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جبکہ مرغی کی قیمت میں 82فیصد سے زائد، انڈوں کی قیمت میں 50فیصد سے زائد،نمک کی قیمت میں 49فیصد سے زائد، دال مونگ کی قیمت میں تقریبا 47فیصد، ٹوٹا چاول کی قیمت میں 46فیصد سے زائد، آٹے کی قیمت میں 45فیصد سے زائد اور ثابت چاول کی قیمت میں 43فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عام آدمی مہنگائی کے بوجھ سے پس کر رہ گیا ہے۔
احسن ظفر بختاوری نے کہا کہ ایک سال میں ڈیزل کی قیمت میں 60فیصد سے زائد اور پیٹرول کی قیمت میں 48فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جس سے مہنگائی بھی بڑھی ہے کیونکہ ڈیزل زراعت اور ٹرانسپورٹ شعبے میں استعمال ہوتا ہے اور اس کی قیمت میں اضافہ مزید مہنگائی کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں اتنا زیادہ اضافہ ہونے سے عوام کی قوت خرید بہت کم ہو گئی ہے جس وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں اور معیشت کمزور ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روپے کی گرتی ہوئی قدر، بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی میں گئی گنا اضافہ کر دیا ہے جس وجہ سے عام آدمی اس وقت بہت پریشان ہے جبکہ اب آٹے کے بحران نے عوام کی مشکلا ت میں مزید اضافہ کر دیا ہے لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت مہنگائی کے اسباب کا تفصیلی جائزہ لے اور ان مسائل کو حل کرنے پر فوری توجہ دے جو مہنگائی میں اضافہ کر رہے ہیں۔
چیمبر کے سینئر نائب صدر فاد وحید نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور گذشتہ سال سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستان میں فوڈ سیکیورٹی کے خطرات بہت بڑھ گئے ہیں جس وجہ سے آنے والے وقتوں میں ملک کو غذائی اجناس کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ پہلے ہی ملک میں آٹے، پیاز اور دیگر کھانے پینے کی چیزوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باجود 2022میں پاکستان کا فوڈ امپورٹ بل 9ارب ڈالر رہا جبکہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پاکستان کیلئے فوڈ سیکورٹی کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ملک کی فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک جامع حکمت عملی وضع کرے۔
چیمبر کے نائب صدر انجینئر محمد اظہر الاسلام ظفر نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے پاکستان کو 30ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے جبکہ ڈونر کانفرنس میں پاکستان کیلئے 10ارب ڈالر سے زائد کی امداد کے وعدے کئے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امدادی رقم کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں متاثرہ آبادی کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ زراعت اور انفراسٹریچکر کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جائے تا کہ ملک کی زرعی پیداوار بہتر ہونے سے فوڈ سیکورٹی کے خطرات کم ہوں اور عوام کو بھی مزید مہنگائی سے بچایا جا سکے۔