اسلام آباد (ممتازنیوز)اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیراہتما م کانفرنس میں ملک بھر کی ممتازکاروباری شخصیات نے متفقہ طور پر حکومت کو معاشی بہتری کے لئے بینکوں میں ڈالر جمع کرانے والوں کو 10 سال ٹیکس چھوٹ دینے ، برآمد کنندگان اور ترسیلات زر بھیجنے والوں کے لئے بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر ریٹ کے فرق کو پورا کرنے کی غرض سے بونس سکیم متعارف کرانے ، درآمدات کے متبادل کی ملک میں تیار ی اور برآمدات بڑھانے کیلئے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنے سمیت متعدداہم تجاویزپیش کی ہیں۔
’’ معیشت کی بحالی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس میں یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین شہزاد علی ملک (لاہور)، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر گوہر اعجاز (لاہور)، اپٹما کے سابق چیئرمین ا یس ایم تنویر (کراچی)، ایف پی سی سی آئی کے سابق صدور غضنفر بلور (پشاور) اور انجینئر دارو خان اچکزئی (کوئٹہ)، سابق سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی خالد تواب (کراچی)، نائب صدر ایف پی سی سی آئی قاضی اکبر (چکوال)، خالد اقبال ملک گروپ لیڈر آئی سی سی آئی، ظفر بختاوری سیکرٹری جنرل یو بی جی، حاجی افضل سابق صدر سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پشاور) اور نعیمہ انصاری سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی ویگر نے معیشت کو درپیش اہم مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اورایک متفقہ قراردادمنظور کر کے معیشت کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کے لیے حکومت کو مختلف تجاویز پیش کیں۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیاکہ حکومت درآمدات کے متبادل ملک میں تیار کرنے اور برآمدات کو بہتر فروغ دینے کیلئے نجی شعبے کے ساتھ بھرپور تعاون کرے جس سے ملک کی کمزور معیشت کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔
قرارداد کے مطابق پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باجود گندم، کپاس، دالیں اور خوردنی تیل کی درآمد پر سالانہ 12 سے 13 ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے اور لہذا حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ملک میں ان کی درآمدات کے متبادل تیار کرنے کیلئے بزنس کمیوٹنی کو ترغیبات دی جائیں جس سے درآمدات کم ہوں گی اور برآمدات میں اضافہ ہو گا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان صرف 3 سے 4 مصنوعات کی 70 فیصد برآمدات کر رہا ہے لہذا حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ آئی ٹی، انجینئرنگ گڈز، فارماسیوٹیکلز اور دیگر مصنوعات کی برآمدات بڑھانے اور برآمدات کی نئی مارکیٹیں تلاش کرنے میں نجی شعبے کے ساتھ تعاون کرے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ ڈالر کی قلت ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی بحران کی سب سے اہم وجہ ہے لہذا مطالبہ کیا گیا کہ حکومت ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے کے لیے بینکوں میں ڈالر جمع کرانے والوں کو 10 سال کی ٹیکس چھوٹ دینے پر غور کرے۔
قرارداد میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ حکومت ایکسپورٹرز اور ترسیلات زر بھیجنے والوں کو بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر ریٹ کے فرق کو پورا کرنے کے لیے بونس اسکیم کی پیشکش پر بھی غور کرے۔
قرارداد میں پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ملز، پاکستان ریلوے اور بجلی کمپنیوں سمیت خسارے میں چلنے والے تمام سرکاری اداروں کی جلد نجکاری کا مطالبہ کیا گیا جس سے حکومت کو سالانہ تقریبا ایک ہزار ارب روپے کی بچت ہوگی۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری نے اپنے استقبالیہ خطاب میں ملک کے ممتاز بزنس لیڈرز کو کانفرنس میں خوش آمدید کہا اور اس بات پر زور دیا کہ حکومت معیشت کو موجودہ مشکلات سے نکالنے کے لیے بزنس کمیونٹی کی مشاورت کے ساتھ ایک نئی حکمت عملی تیار کرے۔
یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین شہزاد علی ملک نے زمینداروں اور صنعتکاروں پر زور دیا کہ پاکستان کو گندم، کپاس، دالوں اور خوردنی تیل سمیت زرعی اجناس میں خود کفیل بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں جس سے ملک بہتر ترقی کرے گا۔آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹیکسٹائل صنعت کو ریجنل ٹیرف فراہم کرے تو ٹیکسٹائل برآمدات کو دگنا کر دیں گے۔
چیمبر کے سینئر نائب صدر فاد وحید نے کانفرنس میں شرکت کرنے پر بزنس لیڈرز اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ تاجر رہنماؤں نے متفقہ قرارداد کے ذریعے جو تجاویز حکومت کو پیش کی ہیں ان پر عمل کرنے کیلئے سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔










