بھارتی آرمی چیف منوج پانڈے نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ سرحد پر صورتحال مستحکم ہے لیکن ڈھائی سال تک دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان مشرقی لداخ کے علاقے میں آمنے سامنے رہنے کے بعد غیریقینی ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے منوج پانڈے نے کہاکہ دونوں ملکوں میں افواج اور سفارتی سطح پر بات چیت جاری ہے اور بھارت کی فوج بڑے پیمانے پر اپنی تیاری کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس کافی فوج موجود ہے۔ ہر سیکٹر میں افواج کی ریزرو تعداد بھی موجود ہے جو کسی بھی صورتحال سے نمٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہوں گا کہ صورتحال مستحکم اور قابو میں ہے تاہم غیریقینی بھی ہے۔ جنرل پانڈے نے بتایا کہ روس یوکرین تنازعے کے باعث انڈین فوج کے لیے سپیئر پارٹس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔ انہوں نے انڈیا کے ان ملکوں سے سامان پر انحصار کے حوالے سے بھی بات کی۔ انڈین فوج کے سربراہ نے کہا کہ ’ہتھیاروں کے نظام خاص طور پر پارٹس، اسلحہ نہایت اہم ہے جس مسئلے سے ہم نے نمٹ لیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کے دفاعی ساز وسامان کا 60 فیصد تک روس سے آتا ہے، اور نئی دہلی چین سے سرحدی تنازعے پر اس وقت خود کو مشکل میں دیکھتا ہے۔ 2020 میں ایک سرحدی جھڑپ میں 20 انڈین اور چار چینی فوجی مارے گئے تھے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق روس میں ایک بڑی مرمت کے بعد انڈیا کو اپنی ڈیزل سے چلنے والی آبدوزوں میں سے ایک کو واپس لے جانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو یوکرین سے جنگ کے باعث پابندیوں کا شکار ہے۔
بھار ت کا کہنا ہے کہ چین نے اقصائے چن کے علاقے میں اس کے 38 ہزار مربع کلومیٹر پر قبضہ کر رکھا ہے، جسے انڈیا لداخ کا حصہ سمجھتا ہے، اور جہاں دونوں افواج کا آمنا سامنا ہوتا رہا ہے۔
بھارت کا کہنا ہے کہ بیجنگ کی طرف سے سرحدی صورتحال میں یکطرفہ تبدیلی ناقابل قبول ہے۔
لائن آف ایکچول کنٹرول چین اور انڈیا کے زیر قبضہ علاقوں کو مغرب میں لداخ سے ہندوستان کی مشرقی ریاست اروناچل پردیش تک الگ کرتی ہے، جس پر چین اپنے ملک کا حصہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ انڈیا اور چین کے درمیان 1962 میں سرحد پر جنگ ہوئی تھی۔
چین کے ساتھ سرحدی صورتحال غیریقینی ہے،بھارتی آرمی چیف








