بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان اور امریکی ریاست واشنگٹن کے درمیان مضبوط و بہتر معاشی تعلقات کے خواہاں ہیں، امریکہ میں پاکستانی سفیر مسعود خان کی واشنگٹن کے گورنر سے ملاقات میں بات چیت

واشنگٹن (ممتازنیوز)امریکہ میں پاکستانی سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ پاک امریکہ دو طرفہ تجارتی حجم حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے ۔ اہم شعبوں میں ہدفی نقطہ نظر سے اس حجم کو کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے۔ریاست واشنگٹن کی مضبوط معیشت اور دنیا کے معروف کاروباری اداروں کی موجودگی پاکستان کے زرخیز ذہنوں اور ترقی پذیر کاروباروں کے لئے ایک مثالی بنیاد فراہم کرتی ہے کہ وہ باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی شراکت داری قائم کرسکیں ۔وہ امریکی ریاست واشنگٹن کے گورنر لیفٹیننٹ ڈینی ہیک سے ملاقات میں بات چیت کررہے تھے۔اس موقع پر انہوں نے زراعت، مینوفیکچرنگ، آئی ٹی اور ٹیلی کام، بائیوٹیکنالوجی، سیاحت اور کلین گرین انفراسٹرکچر جیسے چند اہم شعبوں کی نشاندہی کی جہاں مضبوط شراکت داری قائم کرنے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔

ڈینی ہیک نے سٹیٹ کیپیٹل بلڈنگ اولمپیا میں پاکستانی سفیر کا استقبال کیا۔ لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ خاتون اول ٹروڈی انسلی، سینیٹر کلیئر ولسن اور ریاست واشنگٹن کے سیکریٹری صحت ڈاکٹر عمیر شاہ بھی موجود تھے۔سفیر پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈینی ہیک نے کہا کہ پاکستان امریکہ کا اہم اتحادی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں۔

لیفٹیننٹ گورنر ڈینی ہیک نے سفیر کو یقین دلایا کہ وہ پاکستان میں کاروباری موقع تلاش کرنے کے حوالے سے امریکی ریاست واشنگٹن کے سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔ڈینی ہیک نے کہا کہ ریاست واشنگٹن تجارت پر چلنے والی معیشت ہے اور پاکستان اور ریاست واشنگٹن کے درمیان مضبوط شراکت داری پاک امریکہ دو طرفہ تجارتی حجم کو کئی گنا بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گی۔پرتپاک استقبال پر ریاست واشنگٹن کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سفیر خان نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات منفرد نوعیت کے ہیں جو وقت کی کسوٹی پر پورا اترتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ گذشتہ 75 سالوں سے پاکستان کا سب سے بڑا ترقیاتی شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مشترکہ اقدار اور مقاصد تمام شعبہ جات میں مضبوط شراکت قائم کرنے اور علاقائی اور عالمی امن اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔پاکستان میں حالیہ سیلاب اور امریکہ کی طرف سے فراہم کی گئی فراخدلانہ امداد کا حوالہ دیتے ہوئے، خصوصاً جنیوا میں حال ہی میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے دوران اضافی 100 ملین ڈالر کی اضافی امداد فراہم کرنے پر سفیر پاکستان نے امریکہ اور اس کے شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت اور عوام مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔600 بلین ڈالر سے زیادہ جی ڈی پی والی ریاست واشنگٹن کی متاثر کن سالانہ شرح نمو کا ذکر کرتے ہوئے مسعود خان نے کہا کہ ریاست واشنگٹن کی مضبوط معیشت اور دنیا کے معروف کاروباری اداروں کی موجودگی پاکستان کے زرخیز ذہنوں اور ترقی پذیر کاروباروں کے لئے ایک مثالی بنیاد فراہم کرتی ہے کہ وہ باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی شراکت داری قائم کرسکیں ۔ انہوں نے زراعت، مینوفیکچرنگ، آئی ٹی اور ٹیلی کام، بائیوٹیکنالوجی، سیاحت اور کلین گرین انفراسٹرکچر جیسے چند اہم شعبوں کی نشاندہی کی جہاں مضبوط شراکت داری قائم کرنے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔دوران ملاقات پاکستان سے آم کی درآمد پر بھی تبادلہ خیال کیا۔لیفٹیننٹ گورنر ڈینی ہیک نے سفیر کو یقین دلایا کہ وہ پاکستان میں کاروباری مواقع تلاش کرنے کے حوالے سے امریکی ریاست واشنگٹن کے سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔سفیر پاکستان مسعود خان نے لیفٹیننٹ گورنر ڈینی ہیک کو قانون سازوں، اسمبلی کے نمائندگان اور کاروباری شخصیات کے ساتھ پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی جسے انہوں نے بخوشی قبول کر لیا۔