متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما اور سابق مئیر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد نے ہمارے بائیکاٹ پر لبیک کہا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں وسیم اختر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اورحکومت نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، ہم الیکشن سےنہیں بھاگ رہے، کراچی صاف وشفاف الیکشن چاہتا ہے۔
وسیم اختر کا کہنا تھا کہ کراچی میں اپنی مرضی کی حلقہ بندیاں کرائیں گئیں، ہم سپریم کورٹ کی ہدایت پر سندھ حکومت کے پاس گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے حلقے پر 20 ہزار پر یوسی ہے اور ایم کیو ایم کے حلقے پر 90 ہزار پر یوسی ہے۔
وسیم اختر سے سوال کیا گیا کہ کیا ایم کیو ایم اس الیکشن کو عدالت میں چیلنج کرے گی؟ تو ان کا کہنا تھا کہ عوام نے اس الیکشن کو رد کیا ہے، ہم اس الیکشن کو ہر فورم پر چیلنج کریں گے۔
وسیم اختر کا کہنا تھا کہ میئر کے پاس اختیارات ہی نہیں ہوں گے، دعا ہے کہ جو بھی میئر بنے کراچی کے مسائل حل کرے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو پورا گنا جائے، حلقہ بندیاں درست کی جائیں، یہ الیکشن آئین کےمطابق نہیں ہوئے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی زیدی کا کہنا تھا کہ بلدیاتی الیکشن میں سب سے بڑی جماعت ہماری تھی، 246 یوسیز میں سے 241 پر ہمارے امیدوارتھے، کوئی بھی جماعت ہمارے قریب نہیں ہے۔
علی زیدی نے کہا کہ 15 جنوری کیلئے الیکشن کمیشن نے میری پٹیشن پر فیصلہ دیا، اسی فیصلے پر آج بلدیاتی انتخابات ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر میں انتخابات سکون سے ہوئے، لیکن کئی جگہ 12 بجے تک پولنگ شروع نہیں ہوئی تھی۔
ہم اس الیکشن کو ہر فورم پر چیلنج کریں گے، وسیم اختر








