خانیوال(وقار پراچہ ) لاکھوں بوری سٹاک ہونے کے باوجود غیر ملکی یوریا کی سپلائی شروع نہ ہوسکی۔ ملک بھر میں یوریا کا بحران شدت اختیار کرگیا غیر ملکی یوریا کھاد کی لاکھوں بوری سٹورز میں پڑی خریداروں کا منہ تک رہی ہے۔ تفصیل کے مطابق وفاقی حکومت نے یوریاکھاد کی قلت کو پورا کرنے کے لیے خطیر رقم سے درآمدی یوریا منگوایا مگر ملکی یوریا کی قیمت بڑھنے کے باعث درآمدی یوریا کے تمام آرڈرز بکنگ ہونے کے باوجود روک دیے گئے اور پاکستان بھر کے تمام غیر ملکی یوریا کے سٹورز پر لوڈنگ سٹاپ کردی گئی جس کے باعث ملک بھر میں یوریا کھاد کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ بحران شائد کاشتکاروں کو نہ لے ڈوبے کیونکہ دوسرے پانی پر گندم کی فصل کو یوریا کھاد کی اشد ضرورت ہے مگر ملک بھر میں غیر ملکی یوریا کی لاکھوں بوری موجود ہونے کے باوجود بھی سپلائی نہ دینا کاشتکاروں کے ساتھ بڑا ظلم ہے اور وفاقی حکومت کی زراعت کے ساتھ عدم دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ایک طرف کاشتکار یوریا کھاد کی ایک ایک بوری کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں دوسری جانب غیر ملکی یوریا کھاد کے سٹاک ہونے کے باوجود اسے مارکیٹ میں فراہم نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے اگر یہی صورتحال رہی تو گندم کی فصل کی فی اوسط پیداوار میں نمایاں کمی ہو گی جو کہ نہ صرف کاشتکاروں کیلئے نقصان دہ ہے بلکہ ملک کے گندم کے ذخائر میں کمی کا باعث بنے گی ۔کاشتکاروں نے وزیراعظم میاں شہباز شریف سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ملک بھر میں یوریا کا بحران ، لاکھوں بوری سٹاک ہونے کے باوجود غیر ملکی یوریا کی سپلائی شروع نہ ہوسکی








