اسلام آباد(ممتاز نیوز)کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں کشمیر و پاکستان کے جنرل سیکرٹری شیخ عبد المتین نے کہاہے کہ کشمیر کا تنازعہ اقتدار کی جنگ کا نہیں بلکہ کشمیریوں کی غیر قانونی بھارتی قبضے سے آزادی کا مسئلہ ہے۔ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی ، غیر قانونی حراست ، خواتین کی بے حرمتی اور گھروں اور دیگر املاک کی توڑ پھوڑ کی مذمت کی گئی۔اسلام آباد سے پریس کو جاری اپنے ایک بیان میںانہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنے پیدائشی حق ،حق خود ارادیت کیلئے بیش بہا قربانیاں دے رہے ہیں اور وہ مقصد کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کشمیر کے آزادی پسند عوام کی آواز کی نمائندگی کرتی ہے اس وہ بھارتی جبرو استبداد کے باوجود جاری تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ مقبوضہ علاقے کے مسلم اکثریتی کردار کو تبدیل کرنے کے اپنے مذموم عزائم کو پورا کرنے کے لیے بھارتی فسطائی حکومت کی طرف سے 5 اگست 2019 سے مسلط کیے گئے بدترین فوجی محاصرے کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ شہدائے کشمیر کوشاندار خراج عقیدت پیش کیا گیا اوربھارتی جیلوں ، عقوبت خانوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماؤں ، کارکنوں اور نوجوانوں کے عزم و ہمت کو سراہا گیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، فہمیدہ، ناہدہ نسرین، مشتاق اسلام ، مولوی بشیر احمد ، بلال صدیقی، نعیم احمد خان، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، ایاز محمد اکبر، فاروق احمد ڈار اور شاہد الاسلام سمیت غیر قانونی طور پر نظر بند تمام حریت رہنماو ں اور کارکنوں کی فوری رہائی کا اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا۔
شیخ عبد المتین کابھارتی جیلوں ، عقوبت خانوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماؤں ، کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ








