اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیرشیریں مزاری کا کہنا ہے کہ جمعرات کی رات عدالتی بغاوت ہوئی ، فیصلے سے وہ سمجھتے ہیں جیت گئے لیکن کھیل ابھی شروع ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرشیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کل رات عدالتی بغاوت ہوئی، حکم دیا کہ قومی اسمبلی اجلاس کیسے،کس وقت منعقد ہونا چاہیے، حکومت کی تبدیلی کی امریکی کوشش کا مسئلہ وہی کا وہی ہے، جس کی وجہ سے ڈپٹی اسپیکر کی حکمرانی کونظر اندازکر دیا گیا ، لیکن بات ختم نہیں ہوئی۔

شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ فیصلے سے وہ سمجھتے ہیں جیت گئے لیکن کھیل ابھی شروع ہوا ہے، عوام پیسوں کےلالچ میں اپنا اپ بیچنےوالوں کوجانتےہیں، آخر کار یہ سب عوام کی عدالت میں جائیں گے۔
گذشتہ روز سپریم کورٹ نے 3 اپریل کی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو برقرار رکھا تھا۔
عدالت نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کابینہ کو بھی بحال کر دیا تھا جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتے کو صبح ساڑھے دس بجے سے پہلے بلا کر جلد از جلد عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کاحکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ قومی اسمبلی تحلیل ہونےکی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد منظور ہو جاتی ہے تو اسمبلی نئے وزیر اعظم کا انتخاب کرے۔








