اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس کے باہر 18 مارچ کو مبینہ طور پر توڑ پھوڑ اور پولیس پر حملہ کرنے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 316 کارکنوں کا گرفتار کرلیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں اسلام آباد پولیس نے کہا کہ ’پی ٹی آئی مظاہرین کی اشتعال انگیزی، جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس پر حملوں پر اسلام آباد کیپیٹل پولیس نےمختلف کارروائیاں کیں‘۔
بیان میں کہا گای کہ ’اب تک 316 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور مزید گرفتاریوں کے لیے پولیس کی ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں اور واقعے میں ملوث تمام ملزمان کی کیمروں کی مدد سے شناخت کا عمل بھی جاری ہے‘۔
وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے بتایا کہ ’پرتشدد واقعات میں گرفتار افراد کی اطلاع دیگر اضلاع کو بھی دی جارہی ہے تاکہ دیگر اضلاع میں مطلوب افراد ان کے حوالے کیے جا سکیں‘۔
پولیس نے کہا کہ ’پرتشدد کارروائیوں میں ملوث سرکاری ملازمین کی اطلاع ان کے متعلقہ محکموں کو بھیجی جارہی تاکہ محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جائے‘۔
بیان میں کہا گیا کہ ’تمام ملزمان کا سابقہ پولیس ریکارڈ بھی حاصل کیا جا رہا، سوشل میڈیا پر متحرک سرکاری ملازمین جو اشتعال انگیز کارروائیوں میں شامل تھے، ان کی نشان دہی بھی کی جا رہی ہے تاکہ محکمانہ کارروائی ہو سکے‘۔
جوڈیشل کمپلیکس میں ہونے والی کشیدگی کے حوالے سے مزید کہا گیا کہ ’دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث نجی اداروں اور کمپنیوں کے ملازمین کے بارے میں معلومات متعلقہ اداروں کو بھیجی جائیں گی‘۔
پولیس کا کہنا تھا کہ ’جو تارکین وطن ان کارروائیوں میں شامل پائے گئے ہیں، ان کے متعلقہ سفارت خانوں کو خطوط لکھے جا رہے ہیں اور پرتشدد مظاہروں کی مالی معاونت کرنے والے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز کیا جا رہا ہے‘۔
نقصانات کے حوالے سے کہا گیا کہ ’پرتشدد جلاؤ گھیراؤ میں 58 پولیس افسران زخمی ہوئے، 12 گاڑیوں سمیت 20 موٹر سائیکلیں اور ایک پولیس چوکی نذر آتش کر دی گئی۔
یاد رہے کہ 18 مارچ کو عمران خان توشہ خانہ کیس کی سماعت میں پیشی کے لیے جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پہنچے تو اسلام آباد پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان گھنٹوں تک جھڑپیں جاری رہی تھیں۔
اس دوران دوران پولیس اور پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، پی ٹی آئی نے پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگانے کے لیے پیٹرول بموں کے ساتھ ساتھ پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔
بعد ازاں اسلام آباد پولیس نے فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس کے باہر کشیدگی پر پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور دیگر کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت سی ٹی ڈی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا تھا۔
مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 148، 149، 186، 353، 380، 395، 427، 435، 440 اور 506 لگائی گئی تھیں۔









