انقرہ (شبانہ ایاز) انقرہ میں عبدالرشید ترابی کی سربراہی میں کشمیری رہنمائوں کے ایک وفد نے ترکیہ میں پروفیسر نجم الدین ار بکان کی قائم کردہ فلاحی تنظیم’’ جانسو‘‘کے ہیڈ کواٹر پر تنظیم کے چیئر مین وسابق رکن پارلیمنٹ پروفیسر مصطفی ا کو ئیلو سے ملاقات کی اور آزاد جموں و کشمیر اورپاکستان میں زلزلے اورسیلاب کے متاثرین کی بحالی میں تنظیم کے تاریخی کردار پران کا شکریہ ادا کیا۔
مصطفی ا کوئیلو نے اس موقع پرمقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو ایک عظیم المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی اداروں کی بے حسی کا نتیجہ ہے۔انہوں نے ترکیہ کی این جی اوز کے ساتھ ملکر اس انسانی المیے کے ازالہ کے لئے بین الاقوامی اداروں کو متحر ک کرنے کا عزم ظاہرکیا۔
انہوں نے کہا کہ اہل ترکیہ کے دل اہل کشمیر کےساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ منزل کے حصول تک کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

انہوں نے اپنے ادارے کی خصوصی شیلڈ عبدالرشید ترابی کو پیش کی ۔ کشمیری وفد نے کہاکہ مسلم تنظیموںسمیت بین الاقوامی این جی اوز کو مقبو ضہ جموں وکشمیر میں بدترین انسا نی بحران کا نوٹس لینا چاہیے اور وہا ں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں روکنے اور لاکھوں متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چا ہیے۔وفد نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں یتیموں اور بے سہارا خاندانو ں کی بحالی اور علم کانور پھیلانے والے اداروں اور رضاکاروں کو بند کیا جا رہاہے جبکہ امداد فراہم کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے لئے مقبوضہ جموں وکشمیر کو نوگو ایریابنادیا گیا ہے۔ وفد میں اعجاز رحمانی ،ڈاکٹر ندیم چوہدری اور شیخ طلحہ شامل تھے۔










