خرطوم: سوڈان میں اقتدار کی رسہ کشی میں فوج اور پیرا ملٹری فورسز آمنے سامنے آگئیں، گھمسان کی جھڑپیں تین دن سے جاری ہیں اور ان میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کرگئیں جب کہ 600 کے قریب زخمی ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سوڈان میں بدامنی کا سلسلہ آج تیسرے روز بھی جاری ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں ملکی فوج نے بغاوت کرنے والی پیرا ملٹری فورس کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔
دوسری جانب فوجی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والی پیرا ملٹری فورس نے دعویٰ کیا کہ صدارتی مقام، خرطوم ہوائی اڈے اور دیگر اہم تنصیبات کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
تاہم فوج نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ باغی فورس کو ہر جگہ پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔
خیال رہے کہ یہ لڑائی فوج کے کمانڈر جنرل عبدالفتاح البرہان اور آر ایس ایف کے سربراہ جنرل محمد حمدان دگالو کے درمیان آر ایس ایف کے فوج میں انضمام پر کئی مہینوں تک جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد شروع ہوئی ہے۔
ملکی فوج اور بغاوت کرنے والی ریپڈ سپورٹ فورس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں اور مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 56 ہوگئی جن میں فوجی اہلکار بھی شامل ہیں جب کہ 595 افراد زخمی بھی ہوئے۔
درجنوں زخمیوں کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ سے مشاورت کی ہے اور ہم تینوں نے سوڈان میں متحارب فریقوں پر زور دیا ہے کہ غیر مشروط طور پر لڑائی ختم کریں۔
واضح رہے کہ سوڈان میں عمر البشیر کی طویل حکمرانی کے خاتمے کے بعد تاحال سیاسی بحران ختم نہیں ہوسکا۔









