بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مصنوعی ذہانت کا استعمال مہنگا پڑ گیا، مائیکل شوماکر کا فرضی انٹریو شائع کرنے پر ایڈیٹر فارغ

جرمن میگزین کے ایڈیٹر کو مصنوعی ذہانت کا استعمال مہنگا پڑ گیا،  سات مرتبہ فارمولا ون کے چیمپئن رہنے والے مائیکل شوماکر کا  فرضی انٹرویو شائع کرنے پر ایڈیٹر  نوکری سے فارغ ۔

جرمن میگزین کی جانب سے جاری ایک معذرتی بیان میں بتایا گیا تھا کہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کے ذریعے بنایا گیا مائیکل شوماکر کا فرضی انٹرویو شائع کرنے پر میگزین کے ایڈیٹر این ہوف مین کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے، وہ 2009 سے میگزین کیلئے بطور ایڈیٹر کام کر رہے تھے۔

15 اپریل کو جرمن میگزین نے فرنٹ پیج پر “مائیکل شوماکر کا پہلا انٹرویو” کی ہیڈنگ اور “مغالطے کی حد تک سچ” کی سب ہیڈنگ کے ساتھ 54 سالہ فارمولا ون ریسر مائیکل شوماکر کی مسکراتی ہوئی تصویر جبکہ میگزین کے 8 ویں صفحے پر “میری زندگی مکمل طور پر بدل گئی” کے عنوان سے فرضی انٹرویو شائع کیا تھا۔

فرضی انٹرویو میں مائیکل شوماکر کی اپنے اہل خانہ، نجی زندگی، حادثے اور صحت سے متعلق بات چیت شامل تھی تاہم انٹرویو کے آخر میں لکھا گیا تھا کہ یہ انٹرویو مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنایا گیا ہے۔

جرمن میگزین کی جانب سے بین الاقوامی شہرت یافتہ فارمولا ون ریسر کا فرضی انٹرویو شائع کرنے پر مائیکل شوماکر کے اہل خانہ نے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا گیا تھا جس پر ادارے نے ان سے معافی مانگتے ہوئے ایڈیٹر کو نوکری سے فارغ کر دیا۔

جرمن میگزین کے منیجنگ ڈائریکٹر نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ بدمزہ اور گمراہ کن آرٹیکل کبھی شائع نہیں ہونا چاہیے تھا، کیونکہ یہ نہ صرف صحافتی اقدار بلکہ قارئین کی ہمارے ادارے سے وابستہ توقعات کے بھی منافی تھا۔

واضح رہے کہ 2013 میں ایک حادثے میں دماغ کی چوٹیں لگنے کے بعد سابق چیمپئن کبھی بھی عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے تاہم ان کے اہل خانہ شوماکر کی پرائیویسی کا خیال کرتے ہوئے ان کی صحت سے متعلق آگاہی دیتے رہے ہیں۔