اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے آئینی عمل کے بغیر پی ٹی آئی ارکان کے استعفے منظور کرنے سے انکار کردیا۔ رپورٹ کے مطابق قائم مقام سپیکر قاسم سوری نے اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ حکام سے کہا کہ وہ پی ٹی ائی ارکان کے استعفے اجتماعی انداز میں منظور کریں ، لیکن متعلقہ عملے نے ڈپٹی سپیکر پر واضح کیا آئین کے آرٹیکل 1)64اور قومی اسمبلی رولز 43 کی 4 شقیں طریق کار کی وضاحت کرتی ہیں کہ ہر رکن سے علیحدہ علیحدہ استعفے کی تصدیق کرانا ضروری ہے آئینی پروسس مکمل کئے بغیر اجتماعی انداز میں استعفے منظور کرنے کی آئین میںکوئی گنجائش نہیں، حکام نے ڈپٹی سپیکر پر یہ بات واضح کردی کہ وہ کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی کام نہیں کریں گے ، جبکہ سابق سپیکر ایاز صادق کا کہنا ہے کہ سائیکلو سٹائل استعفے کی کوئی حیثیت نہیں ، رکن کے لئے تحریری استعفیٰ ضروری ہے ، پی ٹی آئی نے 2014کے دھرنے میں مجھے اس استعفے پیش کئے جب میں نے آئینی پروسس کےلئے علیحدہ علیحدہ ارکان کو بلایا تو وہ نہیں آئے اور استعفے مسترد کردیئے تھے، ایاز صادق نے اسمبلی حکام سے کہا ہے کہ وہ سیاسی دبائو پر اگر سپیکر رکن کے جواب سے مطمئن نہیں نہ ہو تو وہ انٹیلی جنس ایجنسی کو استعفے کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات کرانے کا آرڈر دے سکتا ہے ، خفیہ ایجنسی کی رپورٹ پر اس اطمینان کے بعد کہ استعفے رضاکرانہ ہے سپیکر منظوری دے گا۔
اجتماعی استعفے منظور کرنے کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی وضاحت








