بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ن لیگ کی پیپلز پارٹی کو وفاقی کابینہ میں شامل کرنے کی ایک اور کوشش ناکام ، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی شاہدہ اختر کو بنانے پر اتفاق

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے تین روز گزرنے کے باوجود تیرہ جماعتوں پر مشتمل حکمران اتحاد کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان وفاقی کابینہ کی تشکیل پر پائے جانےوالے اختلافات دور نہیں ہو سکے ، ن لیگ کی طرف سے پیپلز پارٹی کو وفاقی کابینہ میں شامل کرنے کی ایک اور کوشش بھی ناکام ہو گئی جبکہ قومی اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر شپ جے یو آئی (ف )کو دینے پراتفاق کیا گیا ہے۔جمعرات کو با خبر سیاسی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے اعلیٰ سطحی وفد نے سابق سپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں گزشتہ شب پی پی پی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی ن لیگ کے وفد میں خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنا اللہ بھی شامل تھےجبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے ملاقات میں سابق وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف ، شیری رحمٰن اور سید نوید قمر نے شرکت کی ،ذرائع کے مطابق ن لیگ کے وفد نے پیپلز پارٹی پر زور دیا کہ وہ کابینہ میں شامل ہو جائیں ، لیکن پیپلز پارٹی کی طرف سے ایک بار پھر معذرت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہماری سیاسی قیادت ابھی اس پر راضی نہیں ہے پی پی پی کے رہنمائوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف حکمران اتحاد میں شامل چھوٹی جماعتوں کو یہ وزارتیں دے کر مطمئن کریں ، ن لیگ کے رہنمائوں نے پیپلز پارٹی کو بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف بہت بڑی کابینہ کی بجائے مختصر کابینہ بنانا چاہتے ہیں۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے جو کہ پہلے ہی قومی اسمبلی کے سپیکر کے لیے راجہ پرویز اشرف کو نامزد کر چکی ہے ن لیگ پر واضح کیا کہ چیئر مین سینٹ بھی پیپلز پارٹی کا ہوگا، ذرائع کے مطابق ن لیگ نے اس معاملے پر آمادگی تو ظاہر کی تاہم واضح کیا کہ حتمی فیصلہ قیادت کی رضا مندی سے مشروط ہے ،ذرائع کے مطابق ملاقات میں قومی اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر شپ جے یو آئی (ف) کی خاتون رکن قومی اسمبلی شاہدہ اختر کو دینے پر بھی دونوں جماعتوں کے رہنمائوں نے اتفاق کیا ،جے یو آئی (ف )اس سے قبل ماضی میں عبدالغفور حیدر کو ڈپٹی چیئر مین سینٹ بنوا چکی ہے اور اب پہلی بار اس جماعت کی خاتون رکن قومی اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر ہوں گی ،ذرائع کے مطابق پنجاب میں پی پی پی کے سید احمد محمود سندھ میں ایم کیو ایم اور بلوچستان اور خیبر پختونحوا میں پی ٹی آئی کے مستعفی ہونے والے گورنروں کی جگہ وفاقی حکومت کی طرف سے نئی تعیناتیوں کا اعلان آئندہ چوبیس گھنٹوں میں متوقع ہے ۔دریں اثناذرائع کے مسابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فٗضل الرحمن نے اپنی نگاہیں ایوان صدر پر جما رکھی ہیں اور یہ معاملہ بھی بہت سے اختلافات کو جنم دے رہا ہے