وائس چیئر مین پاکستان تحریک انصاف مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مراسلہ کا جہاں تک ذکر ہے پولیٹیکل مداخلت کا ہمارا جو موقف ہے ڈی جی آئی ایس پی آرنے اس کی تائید کی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئےوائس چیئر مین پاکستان تحریک انصاف مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں ڈی جی آئی ایس پی آرکو ذاتی طورپر جانتا ہوں ، ڈی جی آئی ایس پی آر ایک سلجھے ہوئے آفیسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس ایک متوازن پریس کانفرنس تھی، ڈی جی آئی ایس پی آر پروفیشنل آفیسر ہیں ،وہ اپنا کام جانتے ہیں ،بڑی ناپ تول کر بات کرتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آرنے پریس کانفرنس میں چیزیں بہت واضح کردیں، ڈی جی آئی ایس پی آرنے واضح کردیا کہ ماسکو کا فیصلہ اکیلے کا نہیں تھا اس میں اسٹیک ہولڈز کی مشاورت تھی۔شاہ محمودنے کہا کہ مراسلہ کا جہاں تک ذکر ہے پولیٹیکل مداخلت کا ہمارا جو موقف ہے ڈی جی آئی ایس پی آرنے اس کی تائید کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں سمجھتا ہوں آج کی پریس کانفرنس سے ہمارے موقف کو تقویت ملتی ہے، ہمارا جو مطالبہ ہے کہ چیف جسٹس صاحب جوڈیشل کمیشن تشکیل دیں اور وہ مناسب “ٹی او آرز” کے ساتھ چھان بین کریں اس کو میری نظر میں اہمیت ملتی ہے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ ایک سیکریٹ ڈاکومیٹ ہے اس کو پبلک اس طرح نہیں کرنا چاہیے ، اسمیں سیکورٹی کے کوڈ ہیں اس سے پاکستان کا سسٹم کمپرومائزہوسکتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مراسلے کا اخباروں میں شائع ہونا اور بازاروں میں بٹنا مناسب نہیں، ہر جماعت ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کی اپنے مطابق تشریح کرےگی اور یہ ایک فطری بات ہے۔وائس چیئر مین پاکستان تحریک انصاف مخدوم شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ مناسب حل یہ ہے کہ سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن تشکیل دے، جوڈیشل کمیشن کے سامنےمراسلہ ، نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے منٹس ، اسپیشل کیبنٹ کمیٹی کے اجلاس کے منٹس ہیں تو اسکے سوالات اور ٹی او آرز سے سب واضح ہوجائےگا۔








