اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )اسپیکرقومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ بطور اسپیکر میری پہلی ذمہ داری اِس ایوان کی خودمختاری اور اِس کو حاصل اختیارات کا تحفظ ہو گا،میری ناقص رائے میں ایسا تبھی ہو سکتا ہے جب مملکت اور عوام کو درپیش تمام اہم مسائل کا فیصلہ اِس ایوان میں ہوں گے آئینِ پاکستان کی دفعہ 91 کی ذیلی شق 6 کی حقیقی روح کو سامنے رکھتے ہوئے تمام وفاقی کا بینہ صرف اور صرف اِس معزز ایوان کو جوابدہ ہو کسی فردِ واحد کو نہیں
ہفتہ کوقومی اسمبلی کے اجلاس سے اپنی افتتاحی تقریرمیںراجہ پرویز اشرف کاکہناتھاکہ جب حکومتِ وقت عوام کے اِن منتخب نمائندوں کی رائے کو مقدم جانے اور اپنی پالیسیاں پوری دیانتداری سے اِس ہاوس اور اِس سے منسلک کمیٹیوں کے سامنے رکھے،ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ اہل پاکستان نے مملکت کے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیئے اِس ایوان کو منتخب کیا ہے،سو مسائل کا حل باہمی مشاورت اور مکالمے میں ہے، نفرت، عدم برداشت اور نعرے کی سیاست میں نہیں
راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ بحثیت سیاسی کارکن، میری تربیت ایک ایسی جماعت میں ہوئی ہے جس کے قائد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے دس اپریل 1973 کو پہلے متفقہ آئین کی منظوری کے موقعہ پر فرمایا تھا، ہمیں ایک ایسا سیاسی معاشرہ قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں مکالمے کو فروغ دیاجائے،منافرت کو نہیں،جہاں مختلف خیالات میں سمجھوتہ ہو، محاذ آرائی نہیں، جہاں قومی اتفاق رائے کو فروغ دیا جائے، نفاق کو نہیں
انہوں نے کہاکہ گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں ہم یہ تواترُ سے کہتے آئے ہیں کہ یہ ایوان نامکمل ہے اگر اِس میں اپوزیشن کی آواز شامل نہیں،آج بطور اسپیکر میں اسے اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اس ایوان میں اپوزیشن کی آواز کسی بھی حیلہ آزمائی سے دبائی نہ جائے بلکہ اُسے سُنا جائے اور اس کا احترام کیا جائے،ہمیں مسائل کو اِس ایوان میں لانا ہے
اسپیکرقومی اسمبلی کاکہناتھاکہ ریاست کے اداروں کے درمیان ادب، احترام اور باہمی مشاورت آئینِ پاکستان کی روح ہے،تمام اداروں کو اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کی مدد اور راہنمائی کرنی چاہئے،اِس حوالے سے پارلیمان کی تمام پارلیمانی اور قائمہ کمیٹوں کو فعال اور مضبوط کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہی اِس ایوان کی حقیقی طاقت ہیں،فی زمانہ پارلیمانی سفارت کاری ممالک کے درمیان مسائل کے حل کا بہترین ذریعہ ہے،میں سمجھتا ہوں کہ اِس ایوان میں موجود ایسی کئی زیرک اور مدّبر شخصیات موجود ہیں جن کے ذریعے ہم خطّے اور عالمی سطح پر پاکستان اور اِس کے جمہوری اداروں کا وقار بلند کر سکتے ہیں،پارلیمانی فرینڈ شپ گروپس اور بین الپارلیمانی اداروں میں ہماری بھرپور شرکت سے یہ ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے
انہوں نے کہاکہ ایک فعال پریس کے بغیر ایوان مکمل نہیں سو میں پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے بھر پور تعاون کا مشتاق ہوں،شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ایک فعال اور متحرک سول سوسائیٹی کو حقیقی جمہوریت کی اساس قرار دیا تھا، بطور اسپیکر میری کوشش ہو گی کہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمنٹری سروسز کی پلیٹ فارم سے بار کونسلوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، مزدور تنظیموں اور طلبہ یونیز سے اِس پارلیمان کے روابط بحال رکھے جائیں،خواتین کی موثر شمولیت اِس اسمبلی کی کامیابی کا راز ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ خواتین ارکان پوری تندہی سے ایوان کی کاروائی میں حصہ لیں گی اور خواتین ارکان کے پارلیمانی کاکس کے ذریعہ پاکستان کی عورت کے حقوق کا دفاع کریں گی،اقلیتی ارکان اور نوجوان ارکانِ اسمبلی کو میں اپنی حقیقی طاقت سمجھتا ہوں، کیونکہ اِن معزز ارکان سے میں توقع رکھتا ہوں کہ عوام کے پسے ہوئے طبقات کے مسائل کو وہ بلا خوف و خطر اِس ایوان کے سامنے رکھتے رہیں گے۔
راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ پاکستان وقت کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا ہے کہ اسے ناامیدی کے اندھیروں سے نکل کر ایک حقیقی روشن خیال، سب کو ساتھ لے کر چلنے والے اور ترقی پسند پاکستان کو منتخب کرنا ہے یا بہتان تراشی اور منافرت کی نذر ہو کر تقسیم در تقسیم ہو جانا ہےیہ فیصلہ بطور عوام کے منتخب نمائندے ، آپ سب کو کرنا ہے مجھے اپنی متحد قومی قیادت کی صلاحیتوں پر کامل یقین ہے
امانتِ نور جن کے سینوں میں زندہ ہے، وہ حرفِ یقین لکھیں گے
ہماری تقدیر اور کوئی نہیں لکھے گا، ہمیں لکھیں گے









