دیامر(نیوز ڈیسک )وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وہ قوم سے جھوٹ نہیں بولیں گے بلکہ حقائق سامنے لائیں گے۔
دیامر بھاشا ڈیم کے تعمیراتی کام کے دورے کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم معیشت کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے، منصوبے کی تکمیل سے آب پاشی اور زراعت کو فروغ ملے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ دیامر بھاشا ڈیم کو 2029 کے بجائے 2026 تک مکمل کرلیا جائے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم اربوں روپے کا منصوبہ ہے لیکن یہاں اسپتال نہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پہلی این آر آئی مشین بطور وزیر اعلیٰ انہوں نے دی، ورنہ اس سے قبل گلگت بلتستان کے لوگ ایم آر آّئی کے لیے راولپنڈی آتے تھے۔
اسپتال کے قیام کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہاں ایسا اسپتال بنانا چاہیے جو ناصرف یہاں کام کرنے والوں کو طبی سہولت فراہم کرے بلکہ مقامی آبادی بھی اس سے فیض یاب ہوسکے۔
وزیر اعظمن نے چیئرمین واپدا کو ہدایت کی کہ یہاں 200 سے 300 بستروں کا ایسا اسپتال ہونا چاہیے جسے ماہرین کی نگرانی میں کام کرے، اس سلسلے میں جتنے فنڈز کی ضرورت ہوگی وفاقی حکومت کی جانب سے مہیاں کئے جائیں گے، چیف سیکریٹری اور متعلقہ حکام اسپتال سے متعلق ایک ہفتے میں انہیں آگاہ کریں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں عہدہ سنبھالے 6 روز ہوگئے ہیں ، ہر روز مختلف ماہرین اور اداروں کے سربراہان سے بریفنگ لیتے ہیں، ان کی باتیں سن کر رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ ہم نے کس طرح پونے 4 ہزار سال ضائع کئے ہیں۔
پاور پلانٹس کی بندش کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے پپاس ہزاروں میگا واٹ بجلی پپیدا کرنے کی صلاحیت ہے لیکن ہمارے پاس نا تو وافر تیل ہے اور نا ہی گیس ، اس سے بڑی لاپرواہی کچھ نہپیں ہوسکتی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں ماضی میں نہیں جانا بلکہ ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے، مجھے جھوٹ نہیں بولنا ، قوم کے سامنے حقائق لاؤں گا، اس دن اس عہدے پر نہیں رہیں گے جب وہ حقائق کو غلط رنگ دینے کی کوشش کریں گے۔









