بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بھارتی اداکار اعجاز خان کو منشیات کیس میں 2 سال بعد رہائی مل گئی

بھارتی رئیلیٹی شو بگ باس کے سیزن 7 کے کنٹسٹنٹ اور اداکار اعجاز خان کو منشیات کیس میں 2 سال بعد رہائی مل گئی۔

اعجاز خان نے جمعے کو رہائی ملنے کے پہلی بار میڈیا سے منشیات کیس میں گرفتاری کے بارے میں بات کی۔

اُنہوں نے کہا کہ این سی بی نے بغیر کسی وارنٹ کے مجھے ایئرپورٹ پر حراست میں لیا، میرا بلڈ ٹیسٹ بھی منفی آیا اور گرفتاری کے وقت میرے پاس صرف نیند کی گولی تھی۔

اُنہوں نے منشیات کیس میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چارج شیٹ پر میرے خلاف کوئی ثبوت ہے ہی نہیں، سمیر وانکھڑے نے مجھے ایک من گھڑت کہانی میں گرفتار کیا ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ میں نے سمیر وانکھڑے کے سامنے رہائی کے لیے بھیک مانگی آج جو کچھ بھی سمیر وانکھڑے کے ساتھ ہو رہا ہےوہ اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، اب اس کے ساتھ وہی سب کچھ ہورہا ہے جو کچھ اس نے دوسروں  کے ساتھ کیا۔

اُنہوں نے جیل میں زندگی کے 2 سال گزارنے کے بعد اپنی زندگی میں آنے والی تبدیلی کے بارے میں بتایا کہ ’میں رہا ہوگیا ہوں! اب میں پرتعیش زندگی اور اے سی کے بغیر رہ سکتا ہوں، میں نے ہر حال میں زندہ رہنا سیکھ لیا ہے لیکن  پچھلے 2 سالوں میں ہونے والا تقصان ناقابل تلافی ہے۔

اعجاز خان نے کہا کہ ’میں نے جو کچھ جھیلا ہے وہ صرف میں ہی جانتا ہوں، مجھے ویب سیریز ’انسپکٹر اویناش‘ سے ہاتھ دھونے پڑے۔

اُنہوں نے بتایا کہ یہاں تک کہ جیل میں کورونا وائرس کا بھی شکار ہوا، میرا خاندان ڈپریشن سے گزرا، میرا بیٹا اب 11 سال کا ہوگیا جب مجھے جیل ہوئی وہ 9 سال کا تھا۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ میں سلاخوں کے پیچھے تھا اور وہ اسکول جاتا، اس صورتحال کا اس کے ذہن پر اتنا برا اثر پڑا کہ اسے ایک نفسیاتی ماہر کے پاس تھراپی کے لیے بھی لے کر جانا پڑا۔

اعجاز خان نے بتایا کہ میں شروع میں 6 ماہ تک تو بیٹے سے مل ہی نہیں سکا کیونکہ میں اس کا سامنا نہیں کر سکتا تھا، جب بھی عید ہوتی، میری بیوی یا بیٹے کی سالگرہ ہوتی تو میں بہت تنہا محسوس کرتا تھا، میں اندرسے ذہنی، جسمانی اور جذباتی طور پر ٹوٹ گیا تھا۔

اُنہوں نے آرتھر روڈ جیل کے ماحول کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں قیدیوں کے بھی انسانی حقوق ہوتے ہیں لیکن یہاں ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ جیل میں زیادہ بھیڑ تھی، ہمارے پاس اچھا کھانا نہیں تھا، اور ہمارے لیے سونے کی جگہ نہیں تھی، جس جیل میں صرف 800 قیدیوں کی گنجائش تھی وہاں 3500 قیدی بھرے ہوئے تھے۔

اعجاز خان نے آرتھر روڈ جیل کو دنیا کی سب سے زیادہ بھیڑ والی جیل قرار دیا ہے۔

اُنہوں نے میڈیا کوریج کے طریقے کار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ میڈیا کس طرف جا رہا ہے، میڈیا والے یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ اصل میں کیا ہو رہا ہے بلکہ وہ عدالت کے ججوں سے بھی پہلے کسی کے بھی بارے میں اپنا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔

ضمانت پر رہا اعجاز خان نے سپریم کورٹ سے معافی کی درخواست کی ہے اور انصاف ملنے کے لیے پُرامید ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ بھارت میں انصاف ملتا ہے لیکن جب تک انصاف ملتا ہے اس وقت تک آدمی کی زندگی خراب ہو جاتی ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ میں جانتا ہوں کہ مجھے انصاف ملے گا، میں اپنے خاندان کے لیے اپنے دامن پر لگے یہ داغ دھونا چاہتا ہوں اور وہ جانتے ہیں کہ میں نے کچھ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ اعجاز خان کو سمیر وانکھڑے کی سربراہی میں ممبئی ایئرپورٹ سے نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کی ٹیم نے منشیات کیس میں مارچ 2021ء میں گرفتار کیا تھا۔