ہری پور(مشرف ہزاروی)ایشیاء میں ٹیلیفون سازی کے سب سے بڑے کارخانے ٹیلیفون انڈسٹریز آف پاکستان (ٹی آئی پی) جو گذشتہ دو دہائیوں سے سنگین مالی بحران سے دوچار تھی کی پی سی بی ورکشاپ میں شارٹ سرکٹ کے باعث ہولناک آتشزدگی ہوئی جس سے فرسٹ اور سیکنڈ فلور مکمل طور پر خاکستر ہو گئے تاہم ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق ہری پور کی دو،خان پور کی ایک ریسکیو 1122 بریگیڈ اور ٹی ایم اے کی بھی دو فائر بریگیڈ گاڑیوں نے فائر فائٹنگ میں حصہ لیا اور دو گھنٹوں کی جاں گسل جدوجہد کے بعد ہولناک آتشزدگی پر قابو پا لیا گیا ۔اس موقع پر این آر ٹی سی کے دو واٹر بائوزرز اور ریسکیو 1122 کے 25 اہلکاروں نے اس آپریشن میں حصہ لیا جس میں دو ریسکیو اہلکار معمولی زخمی بھی ہوئے جنھیں فوری طبی امداد دی گئی۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس ہولناک آتشزدگی کے ساتھ ہی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ٹیمیں موقع پر پہنچیں تاہم انھیں فیکٹری کے اندر داخل ہونے سے بھی روک دیا گیا اس لیے پی سی بی ورکشاپ آتشزدگی میں مالی نقصان ہونے یا نہ ہونے بارے کوئی پتہ نہیں چل سکا۔اس حوالے سے ٹی آئی پی کے سابق ملازمین نے اپنی سابقہ معلومات کی بنیاد پر بتایا کہ پی سی بی ورکشاپ کے اوپری حصے میں انرجی میٹر پراجیکٹ ہوا کرتا تھا اور نچلے حصے میں بھی مشینری وغیرہ موجود تھی اب پتہ نہیں وہ آتشزدگی کے وقت بھی موجود تھی یا اس سے پہلے یہاں سے شفٹ کر دی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق 90 کی دہائی سے 2002 تک ٹی آئی پی منسٹری آف ٹیکنالوجی کے زیر انتظام اور منافع بخش رہی تاہم پھر اسے منسٹری آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے کرنے کے بعد اس کا زوال شروع ہوا اور ٹی آئی پی سنگین مالی بحران سے دوچار ہو گئی آخرکار اسے منسٹری آف ڈیفنس پروڈکشن کے حوالے کرنی کی منظوری جون 2021 اور نومبر 2021 میں اسکے حوالے کر دیا گیا جنھوں نے یہاں پراجیکٹ شروع کر کے ادارے میں بہتری لانی تھی جس پر ورکنگ جاری ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ 90 کی دہائی میں ٹی آئی پی جب منافع میں تھی یہاں ساڑھے پانچ ہزار کے لگ بھگ ورکرز کام کر رہے تھے تاہم گزشتہ دو اڑھائی دہائیوں کے دوران ہونے والے زوال سے اب اس میں ورکرز کی تعداد بمشکل دو سے اڑھائی سو باقی رہ گئی ہے اور اس کے پچیس تیس سال سے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے 877 ورکرز کی مستقلی کے احکامات بھی ہوئے بعد ازاں پانچ ورکرز سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بھی مستقل کیے گئے جو اب بھی موجود ہیں مگر 872 ورکرز گذشتہ دس سال سے ملازمتوں سے غیر اعلانیہ طور پر بے دخل اور عدالت عظمی کے فیصلے او ر ڈائریکشن کے باوجود وفاقی وزارتوں اور عوامی نمائندوں کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ کر بے روزگاری کاٹ رہے ہیں،کئی مر گئے،کئی نے حالات سے تنگ آ کر خودکشیاں کیں مگر متاثرہ ملازمین اب بھی پی ڈی ایم حکومت کی برطرفی ملازمین کمیٹی سے سینیٹر روبینہ خالد،ہری پور کی ضلعی راہنماء شائستہ رزاق اور اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے توسط سے چیئرمین بحالی کمیٹی عبد القادر مندوخیل کی طرف دیکھ رہے ہیں اس کمیٹی کے اجلاس بھی ہو چکے ہیں مگر ساڑھے آٹھ سو سے زائد ٹی آئی پی کے یہ کنٹریکٹ ملازمین مستقلی کے انتظار میں ہیں مگر ان کا کوئی بھی پرسان حال نہیں۔ذرائع کے مطابق ٹی آئی پی 1951/52 میں جرمنی کے تعاون سے قائم کی گئی تھی دونوں ممالک کا جائنٹ وینچر پراجیکٹ تھا جس میں 51 فیصد حصص پاکستان اور 41 فیصد جرمنی کے تھے پھر غالبا 90 کی دہائی کے لگ بھگ جرمنی نے ٹی آئی پی کی مکمل حوالگی کی خواہش کی جو پوری نہ ہونے پر پراجیکٹ صرف پاکستان کے پاس اور زوال کا شکار ہوتا گیا۔ادھر ٹی آئی پی کے متعلقہ افسران سے رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے تا کہ اس ہولناک آتشزدگی کی اصل وجوہات اور مالی نقصان کے تخمینے کا اندازہ ہو۔سکے مگر ابھی تک انتظامیہ سے رابطہ نہیں ہو سکا۔دریں اثناء آتشزدگی کے بعد عوام علاقہ کی کثیر تعداد فیکٹری ،بیرئیر ایریا میں جمع ہو گئی تھی جب کہ ٹی آئی پی انتظامیہ اور امدادی اداروں کے ذمہ داران بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے تاہم فیکٹری کے اندر میڈیا سمیت عام شہریوں کو داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔مزیر برآں اس ہولناک آتشزدگی کے دوران آگ بجھانے کے لیے آپریشن میں حصہ لینے والے ریسکیو 1122 افسران،عملہ،ٹی ایم اے عملہ اور دیگر کی کاوشوں کو سراہا گیا ہے۔










