بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جب تک سیاسی جماعتوں کو پانچ سال نہیں دیئے جائیں گے تو وہ مشکل اور غیر مقبول فیصلے نہیں کرسکیں گے،ڈاکٹر عشرت حسین

اسلام آباد(ممتازنیوز )سابق وفاقی وزیر وسابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نےکہاکہ پاکستان 1947 سے 1990 کے دوران اندرونی اور بیرونی دھچکوں کے باوجود تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا،پاکستان کی شرح نمو اس عرصہ میں 6 سے 6.5 فیصد کے درمیان رہی ، بھارت جو کہ ہم سے آٹھ گنا بڑا ملک ہے نے 3 سے 3.5 فیصد کی شرح سے ترقی کی،بدھ کو اسلام آباد بزنس سمٹ سے خطاب میں سابق وفاقی وزیر نے کہاکہ 1990 سے 2015 کے درمیان پاکستان جنوبی ایشیا میں بیمار ملک بن گیا، سال 2000 میں بھارت ہم سے آگے نکل گیا اور بنگلہ دیش 2015 میں ہم سے آگے نکل گیا،پاکستان کے گورننس کے اداروں کی تباہی کی وجہ سے ملک پیچھے گیا،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام غریبوں کی فلاح کا بہترین پروگرام ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو تین الگ الگ سیاسی جماعتوں نے عملدرآمد کیا۔
انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم ، عمران خان یو زراداری سب کہتے ہیں کہ ہمیں برآمدات بڑھانی ہیں، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کے لئے بیرونی اثرات میں سے ہے، پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا بہت سے مسائل پر اتفاق رائے ہے،جب تک سیاسی جماعتوں کو پانچ سال نہیں دیئے جائیں گے تو وہ مشکل اور غیر مقبول فیصلے نہیں کرسکیں گے،سیاسی جماعتوں کو اگر یہ پتہ نہ ہو کہ وہ کل رہیں گے یا نہیں ،بھارت میں واجپائی ، من موہن سنگھ 10 سال کے لئے آئے،بنگلہ دیش میں اب حسینہ واجد کو دس سال ہوگئے ہیں، اور بنگلہ دیش ترقی کررہا ہے۔
ڈاکٹر عشرت حسین نے کہاکہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کو وقت دیا جائے تو وہ بہت سا کام کرسکتی ہیں،پاکستان میں سیاسی حکومتیں طاقت مین رہنے کے لئے قلیل مدتی اقدامات کرتی ہیں، چین میں تخفیف غربت ، دگنی ترقی شہری سہولیات اور انسانی وسائل میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ،پاکستان میں مقامی حکومتوں سے عوام مطمئن تھے، اگر طاقت کو صوبائی اور وفاقی حکومت میں مرتکز رکھیں گے تو درست پالیسی سازی نہیں ہوگی، بیوکریسی میں آنے والے افراد کا معیار وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوا ہے۔