بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستانی معیشت پر آپ کا لیکچر دینا ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کی انتہا ہی کہاجاسکتا ہے،بلال اظہر کیانی کاحماد اظہر کوجواب

اسلام آباد(ممتازنیوز )وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے معیشت اورتوانائی بلال اظہر کیانی نے حماد اظہر کے بیان پرردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستانی معیشت پر آپ کا لیکچر دینا ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کی انتہا ہی کہاجاسکتا ہے کہ آپ پی ٹی آئی کے اپنے دور کی کارکردگی پر دھوکے اور فریب پر مبنی دعوے کررہے ہیں،بدھ کوسماجی رابطوں کی سائٹ ٹوئٹر پرحماد اظہر کے بیان کاجواب دیتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہاکہ عمران خان کی نام نہاد معاشی ٹیم کا حصہ آپ بھی تھے اور ہیں جس نے چار سال میں پاکستان کی معیشت کا بھٹہ بٹھادیا۔ پھر جان بوجھ کر ملک کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلا۔ پی ٹی آئی کی اصل معاشی کارکردگی کا آئینہ آپ کو دکھا رہا ہوں۔

1۔ دو کروڑ سے زائد پاکستانیوں کو غربت کی لکیر کے نیچے پھینکا۔ 60 لاکھ سے زائد لوگوں کو بے روزگار کیا۔
2۔ ریکارڈ فسکل خسارہ: پی ٹی آئی کے چار سال میں اوسط فسکل خسارہ 3 ہزار 871 ارب روپے تھا جبکہ مالی سال 2022 میں ریکارڈ خسارہ 5 ہزار 260 ارب روپے تھا۔ موازنہ کریں تو 2013-2018 کے مسلم لیگ (ن) کے دور میں اوسط سالانہ فسکل خسارہ صرف 1 ہزار 664 ارب روپے تھا۔
3۔صرف چار سال میں19 ہزار 413 ارب روپے کا قرض بڑھا کر پاکستان کے سرکاری قرض (Public Debt) کے بوجھ میں 78 فیصد اضافہ کر دیا۔ملک پر مجموعی قرض جو جون 2018 میں 24ہزار 953 ارب تھا، مارچ 2022 میں 44 ہزار 366 ارب پر پہنچادیا۔ تاریخ کا سب سے بڑاقرض لینے کے باوجود ملک میں پی ٹی آئی ایک نیا ترقیاتی منصوبہ نہیں دکھاسکتی۔
4۔ پی ٹی آئی کے چار سال کے دور میں مہنگائی(افراط زر) کی شرح مستقل بلند رہی۔
5۔ پی ٹی آئی کے آخری سال میں تجارتی خسارہ ریکارڈ39 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔
6۔ عمران خان کا دعوی تھا کہ مرجاؤں گا ، آئی ایم ایف نہیں جاؤں گا۔ یہ نہ صرف آئی ایم ایف گئے، سخت شرائط پر معاہدہ کیا، ان شرائط پر عمل کرنے میں ناکام رہے اور جب واضح ہوگیا کہ میرا اقتدار ختم ہونے والا ہے تو جان بوجھ کر اس کی خلاف ورزی کرکے پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلا جو پی ٹی آئی کا اصل مقصد تھا۔

اس طرح کی لاتعداد مثالیں دی جاسکتی ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں نے مل کر پاکستان کی معیشت کا دھڑن تختہ کیا اور پوری کوشش کی کہ پاکستان دیوالیہ ہو۔ موجودہ حکومت جب آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے حتمی مرحلے میں تھی تو عمران خان، شوکت ترین اور تیمور جھگڑا نے آئی ایم ایف پروگرام کوسبوتاژ کرنے کی باقاعدہ سازش کی۔ آج پاکستان عمران خان اور اُن کی ٹیم کی نااہلیوں اور نالائقیوں کی وجہ سے معاشی مشکلات میں پھنسا ہے۔ ہماری حکومت ملک کو اس بحران سے نکالنے کی سرتوڑ کوشش کررہی ہے ۔ عمران خان اقتدار میں رہتا تو پاکستان ایک سال پہلے ہی ڈیفالٹ کرچکا ہوتا۔

پی ٹی آئی کے چار سال کے دور میں عمران خان نے چار وزرا خزانہ لگائے اور چاروں ہی ناکام ہوگئے۔ ان چار ناکام وزراء خزانہ میں بھی آپ ناکام ترین ثابت ہوئے۔ دو ہفتوں بعد ہی آپ کو آپ کی نااہلی اور نالائقی پر عہدے سے برخاست کیاگیا۔

ویسے آپ اس وقت کہاں غائب ہیں؟ 9 مئی کی منظم منصوبہ بندی میں اپنے کردار کااعتراف کرتے ہوئے خود کو کب قانون کے حوالے کریں گے ؟