بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان کا منفرد دلبر ہوٹل جہاں ذوالفقار علی بھٹو،لیاقت علی خان،نواز شریف سمیت بڑی بڑی شخصیات کھاناکھاچکی ہیں،اس ہوٹل کی خاص بات کیاہے ،مالک نے روزنامہ ممتاز سے گفتگو میں کیابتایا؟تفصیلات جانیں اس خبرمیں

اسلام آباد(انٹرویو/شیراز حسین)پاکستان کا منفرد دلبر ہوٹل جہاں سرینگر مقبوضہ کشمیر کے روایتی کھانے بنتے ہیں، دلبر ہوٹل پر ذوالفقار علی بھٹو،لیاقت علی خان، جنرل حمید گل، نواز شریف، شہباذ شریف اور آرمی کے بڑےافسران کھانا کھانے کیلئے آتے رہے، آج بھی بڑے لوگ اس ہوٹل کا ذائقہ دار کھانا اپنے گھروں پر منگواتے ہیں،امریکہ، لندن کیلئے بھی یہاں سے کھانا جاتا ہے، دلبر ہوٹل کا کھانا تین مہینوں تک خراب نہیں ہوتا،ہفتہ کو روزنامہ ممتاز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ملک اسلم پرویز نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔راولپنڈی پرانہ قلعہ کے پاس واقع دلبر ہوٹل جوکہ 1948 میں بنا تھا اس کی بہت پرانی تاریخ ہے اس ہوٹل پر سرینگر کشمیر کے روایتی کھانے بنتے ہیں، اس ہوٹل کے کھانے بہت ذائقہ دار اور لزیز ہیں، دیسی کھانے بننے کا صرف واحد ہوٹل پاکستان میں رہ گیا ہے۔ہوٹل کے مالک ملک اسلم پرویز نے بتایا کہ آج بھی اٹارنی جنرل فاروق ایچ نائک صاحب کا آرڈر ہے ان کا کھانا تیار ہونے کے بعد ان کے گھر پہنچا دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں میرے والد صاحب ہوتے تھے جب میں بارہ سال کا تھا تب سے میں یہاں پر اپنے والد صاحب کی ہمراہ آیا کرتا تھا، اس ہوٹل پر میرے پچاس سال مکمل ہوگئے، انہوں نے مزید بتایا کہ ایک بار جنرل حمید گل صاحب اپنے بیوی، بچوں کو یہاں ہوٹل پر لیکر آئے تو میں نے پوچھا جنرل صاحب یہاں گلیوں میں کیا کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ کھانا کھانے آیا ہو،اس کے بعد میں نے کہا کہ جنرل صاحب آپ کو کھانے آپ کے گھر پر پہنچایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان بھی یہاں ہوٹل پر کھانا کھانے آیا کرتے تھے، شیخ رشید کے حوالے سے ملک اسلم پرویز نے بتایا کہ شیخ صاحب کا بچپن یہاں گزرا ہے، لال حویلی کیلئے بھی یہاں سے کھانا جاتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز کیلئے بھی کھانا یہاں سے جاتا ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف صاحب کیلئے بھی یہاں سے کھانا تیار ہوکر جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ عالمی دنیا کیلئے بھی یہاں سے کھانا جاتا ہے، ہمارے ہوٹل کا کھانا بغیر فریج کا تین مہینے تک خراب نہیں ہوتا، ہم ٹین کے ڈبہ میں پیک کر اس کو امریکہ، یورپ میں ارسال کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ہوٹل کے مالک نے کہا کہ پاکستان کا کوئی ایسا سیاست دان یا آرمی جنرل نہیں ہوگا جنہوں نے یہاں سے کھانا نہ کھایا ہو، آرمی کے بڑے بڑے جنرل یہاں کھانوں کیلئے آتے رہے، اور آج بھی یہاں سے بڑے لوگوں کے گھر کھانا جاتا ہے۔