بالی ووڈ کے سینئر اداکار نصیرالدین شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں اب سندھی زبان نہیں بولی جاتی۔
نصیرالدین شاہ نے اپنی سیریز ’تاج‘ کے ایک پروموشنل ایونٹ کے دوران یہ دعویٰ کیا کہ ‘پاکستان میں بلوچی، باری، سرائیکی اور پشتو زبان بولی جاتی ہے لیکن بلاشبہ سندھی اب پاکستان میں نہیں بولی جاتی‘۔
اداکارہ منشا پاشا سمیت کئی پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کو بھارتی اداکار کا حقیقت کے برعکس دیا گیا یہ بیان بالکل پسند نہیں آیا کیونکہ حقیقت یہ ہے سندھی پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں سے ایک ہے۔
اُنہوں نے نصیرالدین شاہ کے اس بیان پر اپنے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ’بطور قابل فخر سندھی جوکہ اپنے گھر میں سندھی زبان بولتی بھی ہوں، میں اس رائے سے اختلاف رکھتی ہوں‘۔
As a proud Sindhi who speaks the language within her household, I beg to differ. https://t.co/6XXWaUXRtv
— Mansha Pasha (@manshapasha) June 6, 2023
یہاں ایک نظر دیگر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کیے گئے ٹوئٹس پر بھی ڈال لیتے ہیں۔
Shah SB nearly 2 corore active speakers beg to differ …. You are most welcome to come and see mohen Jo daro and experience local language first hand
— Imran Siraj Khan (@siraj_imran) June 6, 2023
In Sindh, National ID card is also issued in Sindhi. There are Sindhi channels and newspapers. Sindhi literature is richer than many other literatures.
— Bilal I. Allawala (@BilalAllawala) June 7, 2023
Sindhi is literally the most developed language in Pakistan after Urdu. It's a medium of instruction, compulsory subject till matriculation. National Identity Cards are printed in Sindhi. FIRs, office work and Sindh Assembly proceedings are conducted in Sindhi.
— Raza Alee (@razaaliqazi1) June 6, 2023
شاہ جی نے لاہور اور کراچی دیکھی ہے اور پاکستان سمجھا ہے- کوئی بات نہں
— Rizwan Karim (@RKQalandar) June 6, 2023









