بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ ایشیا میں بننے والی پرانی اور استعمال شدہ 1800 سی سی تک کی گاڑیوں کی درآمد پر 2005 میں ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو محدود کر دیا گیا تھا۔ اب 1300 سی سی سے اوپر کی گاڑیوں کے ڈیوٹی اور ٹیکسز کی حد بندی ختم کی جا رہی ہے۔ ڈیوٹی اور ٹیکسز کی حد بندی ختم ہونے کے بعد گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب مقامی سطح پر تیار نہ ہونے والی کمرشل گاڑیوں کی سی کے ڈی کی صورت میں درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی کی شرح کو دس فیصد سے کم کرکے پانچ فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2023-24 کا 1450 کھرب کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30 سے 35 فیصد جبکہ پنشنرز کی پنشن میں 17.5 فیصد اضافہ کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ میں 1300 سی سی سے زائد گاڑیوں پر عائد ڈیوٹی اور ٹیکسز کی حد ختم








