نئی دہلی: گجرات کے قصاب کے نام سے شہرت رکھنے والے نریندر مودی نے اقتدار کی خاطر بھارت میں اکثریت کو اقلیتوں کے سامنے لا کھڑا کیا اور ایسا زہر بھر دیا کہ اقلیتوں کے لیے زندگی اجیرن بن گئی۔
بھارت میں سی ایس ڈی ایس کے حالیہ سروے نے ملک میں بڑھتی مسلمانوں سے نفرت کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ سروے میں کئے گئے سوالات کے جوابات میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان واضح فرق پایا جاتا ہے۔
بی جے پی حکومت اور وزیراعظم مودی کی کارکردگی سے صرف 59 فیصد ہندؤ مطمئن ہیں اس کے برعکس مسلمانوں کی اکثریت مودی حکومت کی پالیسیوں سے نالاں ہیں۔
سروے میں 45 فیصد ہندو ووٹرز نے آئندہ الیکشن میں بی جے پی کو ووٹ ڈالنے کے عزم کا اظہار کیا، ان میں زیادہ تر کٹر ہندو تھے جب کہ 85 فیصد مسلمانوں نے کہا کہ کسی صورت مودی اور ان کی جماعت کو ووٹ نہیں ڈالیں گے۔
سروے میں مسلمانوں کی اکثریت نے کانگرس جب کہ ہندؤوں کی اکثریت نے مودی اور ان کی کی جماعت بی جے پی کو ووٹ ڈالنے کی خواہشں کا اظہار کیا۔
سروے میں دیگر چھوٹی اقلیتوں نے بھی مودی حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور آئندہ الیکشن میں کانگریس کو ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔
بھارت میں صرف انتہا پسند ہندو مودی کو لیڈر مانتے ہیں؛ سروے








