اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہاہے کہ سرکاری ملازمین سب سے زیادہ پسا ہوا طبقہ ہے،پنشنرز کو بھی مہنگائی کے تناسب سے دیکھا گیا، الیکشن نہ بھی ہوتا تب بھی بجٹ ایساہی پیش کرتے۔
نجی ٹی وی کے مطابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ بجٹ سٹرٹیجی پیپر میں تاخیر کی وجہ آئی ایم ایف کیساتھ بات چیت میں تاخیر تھی،ہم نے بجٹ میں آئی ٹی سیکٹر اور ایس ایم ایز پر توجہ دی، 3.5شرح نمو حاصل کی جاسکتی ہے۔
اسحاق ڈار نے کہاکہ الیکشن نہ بھی ہوتا تب بھی بجٹ ایساہی پیش کرتے،سرکاری ملازمین سب سے زیادہ پسا ہوا طبقہ ہے،پنشنرز کو بھی مہنگائی کے تناسب سے دیکھا گیا،ان کاکہناتھا کہ ایف بی آر کی ٹیکس کلیکشن کا ہدف سائنسی بنیادوں پر رکھا گیا، ایف بی آر کا نئے سال کا ہدف غیرحقیقی نہیں،مہنگائی اور شرح نمو کے حساب سے ٹیکس کا ٹارگٹ رکھا جاتا ہے، وفاقی وزیر خزانہ نے کہاکہ بجٹ میں 223ارب روپے کے ٹیکس اقدامات کئے گئے ہیں،کراچی پورٹ پر کھڑے کنٹینرز کی کلیئرنس میں تاخیر پر ایف بی آر سے رپورٹ طلب کر لی۔









