بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف کیس میں فوری حکم امتناع کی درخواست مسترد کردی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف کیس میں فوری حکم امتناع کی درخواست مسترد کردی، چیف جسٹس پاکستان نے کہاہم حکم امتناع جاری نہیں کر سکتے،وکلا سائلین کا دفاع کرتے ہیں،وکلا کو ہراساں کیا جارہا ہے، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کتنے لوگ عام جیلوں اور کتنے فوج کی تحویل میں ہیں تفصیل دیں۔
نجی ٹی وی چینل کے مطابق سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں سویلین ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت دوبارہ ہوئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بنچ کا حصہ ہیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ پہلے آرمی ایکٹ کی سیکشن ٹو ون ڈی کو پڑھیں،آرمی ایکٹ کی کس شق کے تحت ٹرائل کیا جا رہا ہے یہ واضح نہیں،درخواست گزاروں نے بھی جو چیزیں لگائیں وہ بھی نامکمل ہیں،لطیف کھوسہ نے کہاہم ملک اور 25کروڑ عوام کی فکر میں آئے ہیں،جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ جاننا چاہتے ہیں مقدمات فوجی عدالتوں کو بھیجنے کا کیا طریقہ کار اپنایا گیا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ مقدمات ملٹری کورٹس بھیجنے کا فیصلہ تو عدالت کریگی،ججز کو تو وجوہات کے ساتھ فیصلہ دینا ہوتا ہے،کیا پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ ان فیصلوں کو چیلنج نہیں کرے گا؟لطیف کھوسہ نے کہاکہ عدالتوں میں بھی نہ ملزم پیش ہوئے نہ ہی وکلا،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کیا انسداد دہشتگردی کی عدالتیں آرمی ایکٹ میں آنے والوں کا ٹرائل کر سکتی ہیں؟لطیف کھوسہ نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے مقدمات میں تو میں پیش ہوتا رہا ہوں،جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ حوالگی تو ان کے اپنے افراد کی ہوسکتی ہے سویلنیز کی نہیں۔
لطیف کھوسہ نے ملٹری کورٹس ٹرائل کیخلاف حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کردی، چیف جسٹس پاکستان نے کہاہم حکم امتناع جاری نہیں کر سکتے،وکلا سائلین کا دفاع کرتے ہیں،وکلا کو ہراساں کیا جارہا ہے،سپریم کورٹ نے فوری حکم امتناع کی درخواست مسترد کردی، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کتنے لوگ عام جیلوں اور کتنے فوج کی تحویل میں ہیں تفصیل دیں، صحافیوں کی بات کرتے ہیں، نام نہیں لینا چاہتا، صحافیوں کو رہائی ملنی چاہئے،جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ کیس تو یہ ہے سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرئل ہو سکتا ہے یا نہیں،سمجھ نہیں آ رہی آپ آرمی ایکٹ کی شقوں کو کیون چیلنج کررہے ہیں،جسٹس منیب اختر نے کہاکہ انسداد دہشتگردی عدالت کو سننے کااختیار نہیں تو کسی فرد کو فوج کے حوالے کر سکتی ہے۔