چند روز قبل بحر اوقیانوس میں لاپتہ ہونے والی آبدوز ٹائٹن کی تلاش کا کام چوتھے روز بھی جاری ہے اور آبدوز کی تلاش کے دوران ٹائی ٹینک کے قریب زیر سمندر سے کچھ ملبہ ملا ہے۔
امریکی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ بحر اوقیانوس میں سیاحوں کی لاپتہ آبدوز ٹائٹن کی تلاش میں ملبہ دریافت ہوا ہے، ٹائی ٹینک کے ملبے کے قریب علاقے میں ملبہ ملا ہے۔
امریکی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ ماہرین روبوٹ سے ملبے والی معلومات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکی کوسٹ گارڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کچھ دیر میں اس حوالے سے پریس کانفرنس کرے گا۔
کوسٹ گارڈ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہورائزن آرکٹک کی آر او وی (دور سے چلنے والی گاڑی) کو ٹائی ٹینک کے ملبے کے قریب سمندر کے فرش پر ملبہ ملا ہے۔
ریئر ایڈمرل جان ماگر، فرسٹ کوسٹ گارڈ ڈسٹرکٹ کمانڈر اور کیپٹن جیمی فریڈرک، فرسٹ کوسٹ گارڈ ڈسٹرکٹ ریسپانس کوآرڈینیٹر، اس حوالے سے پریس کانفرنس کریں گے۔
ملبہ کس کا ہو سکتا ہے؟
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اس پیش رفت میں بڑے انتباہات ہیں، یہ ملبہ کچھ خاص ہوسکتا ہے اور ممکن ہے کہ یہ کچھ بھی نہ ہو۔
امریکی کوسٹ گارڈ نے پچھلے کچھ دنوں سے زیادہ ٹوئٹس پوسٹ نہیں کی ہیں البتہ اس خبر کی ٹوئٹ ان کی جانب سے کی گئی ہے اس لیے یہ اہم بھی ہو سکتا ہے۔
رواں ہفتے ماہرین سے بات کرتے ہوئے بہت سے لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ممکن ہے ٹائٹن بیرونی ڈھانچے کے دباؤ کو سہنے میں ناکامی کی وجہ سے پھٹ گیا ہو اور دریافت ہونے والا ملبہ اسی کا ہو تاہم فی الحال اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
اس پیشرفت کے ساتھ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ ٹائی ٹینک کے ملبے کے ارد گرد سمندری فرش ہر طرح کے ملبے سے بھرا پڑا ہے۔
آبدوز کب لاپتہ ہوئی؟
خیال رہے کہ 1912 میں تباہ ہونے والے مسافر بردار بحری جہاز ٹائی ٹینک کا ملبہ دیکھنے کے لیے جانے والی آبدوز ٹائٹن 18 جون کو بحر اوقیانوس میں لاپتہ ہوئی گئی تھی جس کی تلاش کا کام مسلسل جاری ہے تاہم سائنسدانوں کو تاحال آبدوز یا مسافروں کے حوالے سے کسی قسم کے مصدقہ شواہد نہیں مل سکے ہیں۔
لاپتہ ہونے والی آبدوز میں 2 پاکستانیوں سمیت 5 مسافر سوار ہیں اور امریکی کوسٹ گارڈ کے تخمینے کے مطابق ٹائٹن آبدوز میں سوار 5 مسافروں کو دستیاب آکسیجن کی سپلائی پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر 4 بج کر 18 منٹ پر ختم ہو چکی ہو گی۔
لاپتہ آبدوز کی تلاش میں اہم پیشرفت، ٹائی ٹینک کے قریب سے ملبہ دریافت








