بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

’شوگر لیول کم ہونے پر ایسا محسوس ہوتا جیسے کوئی روح کھینچ رہا ہے‘، فواد خان کا اپنی بیماری سے متعلق انکشاف

پاکستان کے نامور اداکارہ فواد خان نے پہلی بار اپنی بیماری سے متعلق زندگی میں آنے والی مشکلات اور جدوجہد کے بارے میں کئی انکشافات کیے۔

فواد خان پاکستان ٹی وی ڈرامے اور فلم انڈسٹری کے جانے مانے اداکار ہیں، انہوں نے پاکستان سمیت بھارت میں بھی خوب نام کمایا، دنیا بھر میں ان کے لاکھوں چاہنے والے موجود ہیں جو ان کی اداکاری کو بے حد پسند کرتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں یہ خبر گردش کررہی تھی کہ فواد خان ذیابطیس میں مبتلا ہیں تاہم انہوں نے خود باضابطہ طور پر اس بارے میں کھل کر بات کبھی نہیں کی۔

حال ہی میں اداکاری نے یوٹیوب چینل فری اسٹائل مڈل ایسٹ کو ایک انٹرویو دیا جہاں فواد خان نے اپنے بچپن کے دور، اپنی بیماری اور اس سے جڑے دیگر پہلوؤں کے حوالے سے کھل کر اظہار کیا۔

انہوں نے اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا پچپن بہت اچھا گزرا، میں کراچی میں پیدا ہوا تھا، والد کی نوکری کی نوعیت ایسی تھی کہ ہم مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ شفٹ ہوتے رہتے تھے، اسی وجہ سے میں جب صرف 6 ماہ کا تھا تو ہم 2 سال یونان میں رہے، پھر دبئی، ریاض اور گلف وار کے دوران کچھ وقت مانچسٹر میں گزارا، پھر جب ہم لاہور شفٹ ہوئے تو وہیں پر مستقل قیام کرنے کا ارادہ کیا۔ ’

انہوں نے کہا کہ ’اسکول کے زمانے میں ہم نے میوزک بینڈ شروع کیا، اس وقت ہمارا بینڈ زیادہ مشہور نہیں تھا، کالج کے فرسٹ ائیر کے دوران میں نے اداکاری کرنا شروع کی۔ ’

’اس وقت اداکاری صرف شوقیہ شروع کی تھی، چونکہ اس کام کے ماہانہ 12 ہزار معاوضہ مل رہا تھا تو میں سمجھتا تھا کہ میں اپنے اسکول میں سب سے امیر لڑکا ہوں‘

فواد خان نے اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا کہ اسکول میں ہمارا ایک گینگ ہوتا تھا جو سب لوگوں سے 10 یا 15 روپے چندہ اکھٹا کرتا تھا اور برگر یا اس طرح کی چیزیں خریدتے تھے۔

اداکار نے کہا کہ جب میں 17 سال تھا، میرا جسم آٹو امیون رسپانس سے گزر رہا تھا، میرا نہیں خیال میں اس حالت کو صحیح طرح سے وضاحت کرسکتا ہوں شاید کوئی طبی ماہر ہی وضاحت دے سکتا ہے۔

انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ جب جسم میں انسولین بننا بند ہوجائے تو بلڈ شوگر لیول میں اضافہ ہوتا رہتا ہے جسے ہم ذیاطیس کہتے ہیں۔

’17 سال کی عمر میں مجھے ذیابطیس ٹائپ ون تھا، پہلے مجھے شدید بخار ہوا تھا جس کے بعد صرف 8 دنوں میں 10 کلو وزن کم ہوگیا، 17 سال کی عمر میں میرا وزن 65 کلو گرام تھا جو طبعیت خراب ہونے کے بعد 55 ہوگیا تھا۔‘

’وزن کم ہونے کے بعد مجھے شدید پیاس لگتی تھی، جسے پولیوریا کہتے ہیں، اس حالت میں اگر بار بار واش روم جاتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ میرا منہ ہر وقت خشک رہتا تھا، جسم میں پانی کی کمی ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے میں 6 سے 7 لیٹر پانی پیتا تھا تو مسلسل پیشاب آنے کی وجہ سے بار بار باتھ روم جانا پڑتا تھا۔‘

فواد خان نے بتایا کہ میرا شوگر لیول اس وقت 600 تھا، پھر میں اسپتال گیا، وہاں ڈاکٹرز نے مجھے ری ہائیڈریٹ کیا اور مجھے انسولین کے انجیکشن لگائے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ صرف 17 سال کی عمر سے مجھے انسولین کے انجیکشن لگائے جاتے تھے، آج میں 41 سال کا ہوں۔

فواد خان نے بتایا کہ مجھے ذیابطیس میں مبتلا ہوئے 24 سال ہوگئے ہیں۔

’میں اسکول کے زمانے میں بہت پھرتیلا تھا، کھیل سے متعلق ہر طرح کی سرگرمی مٰیں حصہ لیتا تھا، لیکن ذیابطیس کے بعد سب کچھ ’صفر‘ پر آگیا۔‘

’کھیل میں میری دلچسپی اچانک مکمل طور پر ختم ہوگئی، مجھے شوق نہیں رہا، بہت تھکاوٹ ہوتی تھی، زیابطیس کی تشخیص کے بعد پہلے 2 سے 3 ماہ کے دوران میں ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرتا تھا، پھر میں نے اپنے ڈائٹ پلان پر توجہ دی، ’

’سچ بتاؤں تو جب میں اسپتال میں تھا تو ذیابطیس کی تشخیص کے بعد مجھے اتنی زیادہ تکلیف نہیں ہوئی جتنی میرے والد کو تھی، میرے والد جذباتی طور پر مستحکم انسان ہیں۔ ’

اداکار نے کہا کہ ’میری والدہ کہتی ہیں کہ میرے والد اپنی زندگی میں دو بار اتنی زیادہ تکلیف ہوئی ہے، پہلی بار جب ان کے بھائی کا انتقال ہوا اور دوسری بار جب مجھے ذیابطیس کی تشخیص ہوئی۔‘

’میرے والد مجھے کہتے تھے اگر میں زندگی میں کچھ نہیں کرنا چاہتا تو کوئی مسئلہ نہیں ہے‘

فواد خان نے کہا کہ اسکول کے دور میں، میں اپنےساتھ ایک بوتل رکھتا تھا جس میں انسولین کی شیشی، سرنج اور برف ہوتی تھی، جسے میں ہر وقت ساتھ رکھتا تھا، ذیابطیس کی تشخیص کے بعد ابتدائی دنوں میں مجھے بہت زیادہ تکلیف ہوتی تھی۔

’ ایک روز راولپنڈی سے واپسی آنے کے دوران میں گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا، وہ پہلا موقع تھا جب میں نے رونا شروع کردیا، اس وقت میں سوچ رہا تھا کہ ’یہ میرے ساتھ کیوں ہورہا ہے، لیکن دنیا میں اور بھی دکھ ہیں، اور بھی بیماریاں ہیں، اور اس سے بھی بُری بیماریاں ہیں۔ ’

’لیکن ذیابطیس ایسی بیماری ہے جسے غلط سمجھا جاتا ہے، اس بیماری کو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو اس سے گزر رہا ہوتا ہے، ’

فواد خان نے کہا کہ ’مجھ سے زیادہ میرے والد جذباتی طور پر بہت متاثر ہوئے تھے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ مشکل حالات میں امید کی کرن ضرور ہوتی ہے۔‘

’میں مثالی مسلمان نہیں ہوں، لیکن میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ جب اللہ ایک دروازہ بند کرتا ہے تو مزید 100 دروازے کھولتا ہے اور یہ ہر انسان کی زندگی میں ہوتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ آج میں جس مقام میں ہوں اس حوالے سے میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں،

فواد خان کہتے ہیں اس بیماری کو میں نے اپنی بے ساخی نہیں بنایا، حالانکہ میری کچھ حدود ہیں، جب جسم میں شوگر لیول کم ہورہا ہوتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کوئی آپ کی روح کھیچ رہا ہے، کبھی کبھار میں فرش میں بھی گرجاتا تھا، سانس لینے میں بہت دشواری ہوتی تھی، پسینے آتے تھے۔

’ایک وقت میں ایسی حالت بھی ہوئی جب میرا اپنی آنکھوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا تھا، میری آنکھیں چڑھ جاتی تھیں،۔‘

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ذیابطیس کے بارے میں علم نہیں ہے، اگر پولیو کے بارے میں آگاہی مہم چلائی جاتی ہے تو ذیابطیس کے بارے میں کیوں نہیں آگاہی مہم چلائی جاتی؟

اگر آپ کسی معذوری کا شکار ہیں تو اس کے بارے میں بات کریں، دنیا سے چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ مجھے کہتے تھے کہ میں اپنی بیماری کے بارے میں کسی کو نہ بتاؤں، میں سوال کرتا تھا کیوں نہیں بتاؤں ؟ تو لوگ کہتے تھے کہ ’اگر میں بتاؤں گا تو لوگ مجھے کم تر سمجھیں گے، لوگ سمجھیں گے کہ میں کوئی کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا لیکن میرے خیال سے میں نے اپنی زندگی میں بہت سارے کام کیے ہیں، مجھے اس بارے میں فخر ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ عزم رکھتے ہیں کہ آپ اپنی زندگی میں کچھ بننا چاہتے ہیں تو ذیابطیس اور کینسر کچھ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، جسمانی صلاحیت ہر کسی کی ہوتی ہیں لیکن دماغی صلاحیت بہت کم لوگوں میں ہوتی ہیں۔

مجھے ایک وقت میں اکیوٹ کڈنی ڈس آڈر ہوا تھا جس میں آپ کے گردے اچانک کام کرنا بند ہوجاتے ہیں، 7 دن تک اسپتال میں داخل رہا، اب تو اسپتال میں رہنا بہت بورنگ ہے، اس وقت مجھے ڈرپ لگی، علاج ہوا تو اللہ کا شکر ہے کچھ زیادہ نقصان نہیں ہوا۔

جس طرح کا میں کام کرتا ہوں، ہر کوئی اس بات سے متفق ہوگا کہ یہ سب سے بدترین طرز زندگی ہے، یہ دنیا کی بدترین طرز زندگی ہے، اس لائف اسٹال میں بہت کم لوگ اپنے آپ کو فٹ رکھتے ہیں اور کئی گھنٹوں کام بھی کرتے ہیں، لیکن میرے جیسے انسان کے لیے بہت مشکل ہوجاتاہے، مینج ہوجاتا ہے، لیکن مشکل ہے۔

جامن کی گھٹلیاں پیس کر پانی میں پییں، کریلے کا پانی پییں اور اس کے کئی گھریلو ٹوٹکے مجھے دیے گئے، میں نے خود گھریلو ٹوٹکے آزمائے ہیں لیکن مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا، یہ ٹوٹکے بہت عجیب ہیں!

بڑے پیمانے پر آگاہی دینی چاہیے، اسکول اور کالج پر بھی لوگوں کو آگاہی پھیلانی چاہیے، بچوں کو بتانا چاہیے کہ اگر کوئی اس بیماری میں مبتلا ہے تو ان کا مزاق نہیں بنانا چاہیے، اس حالت میں جذباتی سپورٹ کی ضرورت ہے۔