بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مودی، بائیڈن پریس کانفرنس ہمارے حکمرانوں کیلئے باعث شرم ہے،خواجہ آصف

اسلام آباد(ممتاز نیوز)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ امریکی صدر جوزف بائیڈن اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی مشترکہ پریس کانفرنس ان حکمرانوں کے لئے باعث شرم ہے جنہوں نے اپنے دور اقتدار میں پاکستانی ان کے ہاتھ بیچے۔ اس مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ پاکستان کو اپنی جغرافیائی حیثیت کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنا چاہیے، اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم امریکی صدر جوبائیڈن کی دعوت پر امریکا میں ہیں، وہاں پر انہوں نے ایک مرتبہ پھر بھارت کا روایتی رویہ اپناتے ہوئے پاکستان کو دہشت گرد قرار دیا، مودی جب گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو ان کی سرپرستی میں وہاں کے مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا، خواتین کی عصمت دری کی گئی، جس پر اس وقت امریکا نے ان پر ویزہ کی پابندیاں عائد کی تھیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ آج ایک مرتبہ پھر بھارت میں وہی سلسلہ جاری ہے، وہاں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتیں مودی کی دہشت گردی کا ہدف بنی ہوئی ہیں، دہلی کی سرپرستی میں ان پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں، کشمیر میں کئی سالوں سے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے، وہاں کی قیادت کئی دہائیوں سے قید میں ہے، مودی اور ان کے انتہا پسند مذہبی جنونیوں کی بدترین ریاستی دہشت گردی جاری ہے، یہ بیمار ذہنیت میں مبتلا ہیں۔
انہوںنے کہا کہ پاکستان نے 40 سال میں دو افغان جنگوں میں امریکہ کا ساتھ دیا اور اس میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا، یہ ایک ایسی جنگ تھی جو ہماری نہیں تھی، ہم نے خود دہشت گردی کو دعوت دی، امریکا کئی سمندر پار ہونے کی وجہ سے مکمل محفوظ ہے، ان کے لئے جنگیں کمرشل سرمایہ کاری کے مترادف ہیں، آج بھی یورپ میں ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ نائن الیون کے بعد ہم اس کے اتحادی بنے، آج پاکستان کو جس دہشت گردی کا سامنا ہے، یہ اسی جنگ کا شاخسانہ ہے جو ہماری تھی ہی نہیں، آج بھی پاکستانی قوم امریکا کی حلیف ہونے کی قیمت ادا کر رہی ہے جبکہ اس کردار کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ گزشتہ روز امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم کی مشترکہ پریس کانفرنس ان حکمرانوں کے لئے باعث شرم ہے جنہوں نے اپنے دور اقتدار میں پاکستانی ان کے ہاتھ بیچے۔ اس مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ پاکستان کو اپنی جغرافیائی حیثیت کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنا چاہیے، اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔