بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکا کے سر پر قرض کہاں سے آگیا؟ امریکا کو قرض دیتا کون ہے؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کافی عرصے سے ہم پاکستان کے دیوالیہ ہونے یا نا ہونے کی پہیلی میں پھنسے ہیں۔ تاہم اسی شور میں اچانک ہمیں امریکا کے دیوالیہ ہونے کے دَر پر ہونے کی خبریں سنائی دینے لگتی ہیں۔ ہر پاکستانی کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ امریکا تو سپر پاور ہے، ساری دنیا کی تجارت ڈالر میں ہورہی ہے، امریکا دنیا میں حکومتیں بنانے اور گرانے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتا، ہر دوسرا شخص امریکا جا کر اپنی قسمت بدلنے کا خواب دیکھتا ہے، امریکا دیگر ممالک پر پابندیاں بھی لگاتا ہے، امریکا کی معیشت دنیا کی بڑی معیشتوں میں سے ایک بھی ہے، تو پھر آخر امریکا کیوں دیوالیہ ہونے والا ہے؟ امریکا کے سر پر قرض کہاں سے آگیا؟ امریکا کو قرض دیتا کون ہے؟

ان سوالات کے جوابات اس تحریر میں دینے کی کوشش کریں گے۔  امریکا کا مجموعی قرض314کھرب 68ارب 24 کروڑ ڈالرز سے زائد ہے، جس میں ہر گزرتے سیکنڈ کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ امریکا کی کُل آبادی اس وقت 33کروڑ 60لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور ہر شخص کم و بیش 94ہزار ڈالرز سے زائد کا قرضدار ہے۔ امریکا کیوں قرض دار ہے؟، اس کا آسان جواب یہ ہے کہ پاکستان کی طرح امریکا بھی اپنی آمدنی سے زیادہ اخراجات کرتا ہے، اور قرض پر سود ادا کرنے کی وجہ سے اپنا اصل قرض اُتار نہیں پاتا۔ پاکستان کو قرض کے لیے آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے مزید قرض لینا پڑتا ہے، اور امریکا ہر نئی حکومت میں قرض کی حد بڑھا کر مزید قرض لے کر اپنے معاملات چلاتاہے۔ یعنی پاکستان اور امریکا کی مثال دو ایسے اشخاص کی طرح ہے کہ ایک غریب ہے اور دوسرا امیر لیکن دونوں اپنے مالی معاملات میں قرض، سود اور اخراجات کی ’’مس مینجمنٹ‘‘ میں پھنسے ہوئے ہیں۔

امریکا نے قرض کی حد پہلی بار 1917 ء میں متعارف کروائی تھی، جس کا مقصد پہلی جنگ عظیم کے دوران حکومت کو رقم اکٹھا کرنے کے لیے مدد فراہم کرنا تھا۔ اصولی یا نظریاتی طور پر یہ کانگریس کے لیے اخراجات کو کنٹرول کرنے کا ایک طریقہ فراہم کرتا ہے۔ لیکن قرض کی زیادہ سے زیادہ حد کے متعلق رسّاکشی وقت کے ساتھ نقصان دہ ہوتی گئی کیونکہ اس کی وجہ سے سیاسی تقسیم اور امریکی قرض (جو ایک دہائی میں تقریباً دوگنا ہوگیا ہے) دونوں میں اضافہ ہوا۔ یہ جزوی طور پر (2008 ء کے) مالیاتی بحران اور (کووڈ) وبائی امراض کے دوران حکومت کی طرف سے کیے گئے نمایاں اخراجات کی وجہ سے ہے، لیکن یہ اس کا نتیجہ بھی ہے کہ امریکا 2001 ء سے مسلسل بجٹ خسارے میں چل رہا ہے اور یہ اپنی آمدن سے زیادہ خرچ کررہا ہے۔ اب قرض کی حد امریکی سیاست میں مستقل طور پر سیاسی سودے بازی کی کڑی بن گئی ہے۔ اس مسئلے پر 2011 ء میں پیدا ہونے والا تنازع اس وقت حل ہوا تھا جب اس وقت کے صدر باراک اوباما نے 900 ارب ڈالر سے زیادہ کے اخراجات میں کمی کرنے پر اتفاق کیا، جس کی وجہ سے قرض کی حد میں اتنی ہی رقم کی کمی واقع ہوئی۔

حال ہی میں کانگریس کے دونوں ایوان نے ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت بائیڈن انتظامیہ اب مزید قرض لے گی اور امریکا ڈیفالٹ ہونے سے ایک بار پھر بچ گیا ہے۔ امریکی سینیٹ میں یہ بل 36کے مقابلے میں 63 ووٹوں سے منظور ہوا۔ اس بل کے تحت امریکی وفاقی حکومت اگلے صدراتی انتخاب کےدو ماہ تک یعنی2 جنوری 2025 ءتک قرض لے سکتی ہے۔ بل میں کہا گیا ہے کہ امریکی ریاستیں وفاقی حکومت کو 30 ارب ڈالر کی کورونا کی وبا کے دوران دی جانے والی وہ امداد واپس کریں جو خرچ نہیں ہوئی ہے۔ بل میں ان لوگوں کے لیے کام کرنے کی عمر کو 50 سال سے بڑھا کر 54 برس کرنا شامل ہے جو خوراک کی امداد حاصل کرتے ہیں۔

سپر پاور امریکا میں دنیا کے تمام ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ بیرونی قرض لیا ہوا ہے۔ امریکا قرض کی حد بڑھانے کے بعد ٹریژری بلز اور ٹریژری بانڈز جاری کرتا ہے جن پر ایک مخصوص وقت کے بعد منافع ادا کیا جاتا ہے۔ ان بلز اور بانڈز کی حاصل شدہ رقم سے امریکی وفاقی حکومت اپنے مالی معاملات چلانے میں مدد لیتی ہے اور بجٹ خسارہ پورا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ گزشتہ 20 برس میں جاپان اور چین نے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ امریکی ٹریژری بانڈز حاصل کئے ہیں۔ جنوری 2023ء تک امریکی قرضوں کی سب سے زیادہ رقم جن ممالک کی ہے ان میں جاپان 1.1 ٹریلین ڈالرز، چین 859بلین ڈالرز، برطانیہ668بلین ڈالرز، بلجیم 331 بلین ڈالرز اور لکسمبرگ 318 بلین ڈالرز کے ساتھ شامل ہیں۔ درحقیقت ٹریژری بلز یا امریکی ٹریژری بانڈز کی شکل میں امریکی ڈالر رکھنا بہت سی غیرملکی مالیاتی پالیسیوں کا حصہ ہے کیوں کہ اس پر انہیں دیگر سرکاری بانڈز کے مقابلے میں واپسی کی زیادہ شرح بھی ملتی ہے اور یہ بین الاقوامی تجارت اور لین دین میں ایک وسیع پیمانے پر قبول شدہ کرنسی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

تحقیقاتی مالیاتی اداروں کے مطابق اگر امریکا نے اپنے قرضوں کی ادائیگی اور اخراجات پر قابو نہیں پایا تو موجودہ امریکی قرض میں 2053ء تک 195 فیصد اضافہ ہوجائے گا۔ سابق امریکی صدر رچرڈنکسن کے دور حکومت میں امریکی وزیرخزانہ کے عہدے پر ذمہ دراری نبھانے والے پیٹر جی پیٹرسن کی تحقیقاتی مالیاتی فلاحی تنظیم کے مطابق 2029ء تک روزانہ 10ہزار امریکی شہری 65برس کی عمر کو پہنچنا شروع ہوجائیں گے۔ ایک جانب یہ عمر بڑھنے کی خبر تو خوش آئند ہے لیکن ان تمام افراد کو امریکا کو پنشن بھی زیادہ دیر تک ادا کرنا پڑے گی جس سے وفاقی حکومت پر بوجھ بڑھے گا۔ محققین کے مطابق 2010ء میں امریکا میں سنیئرز (65 برس سے زائد عمر کے افراد) کی آبادی چار کروڑ کے لگ بھگ تھی جو 2020ء تک بڑھ کر 5کروڑ 61لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ 2030ء تک امریکا میں سینئرز کی تعداد 7کروڑ 31لاکھ سے زائد ہوجائے گی جبکہ 2060ء تک یہ تعداد بڑھ کر 9کروڑ 47لاکھ سے زائد ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب امریکا کا ہیلتھ کیئر سسٹم دنیا کا مہنگا ترین ہیلتھ کیئر سسٹم ہے۔ ’’پیٹرجی پیٹرسن فاؤنڈیشن‘‘ کے مطابق دیگر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں امریکی شہریوں سے ہیلتھ کے کیئر کے لیے دوگنا زیادہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے لیکن اس معیار کی صحت کی سہولتیں نہیں دی جاتیں۔

امریکی وفاقی حکومت سالانہ مطلوبہ اہداف کے تحت ٹیکس محصولات جمع کرنے میں بھی ناکام رہی ہے اور اخراجات زیادہ کر رہی ہے۔ سال 2022ء میں امریکی وفاقی حکومت نے 4.9کھرب ڈالرز محصولات کی مد میں اکٹھے کئے لیکن خرچ 6.3کھرب ڈالرز کئے۔ جیسے جیسے امریکی قرض بڑھتا جارہا ہے، ویسے ویسے اس پر سود میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ امریکا پر روزانہ 1.3ارب ڈالرز صرف سود کی مد میں بڑھ رہا ہے اور آج سے دس برس بعد اس میں تین گنا اضافہ متوقع ہے۔

شرح سود میں اضافے کی وجہ سے امریکی عوام سمیت امریکی بینک بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ رواں برس مارچ کے مہینے میں سلیکون ویلی بینک، سگنیچر بینک اور سلور گیٹ بینک دیوالیہ ہوگئے۔ ان تینوں بینکوں کے دیوالیہ ہونے میں ایک قدر جو مشترک پائی گئی، وہ ٹیکنالوجی کے شعبے جیسے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری تھی۔ مارچ کے مہینے میں ہی فرسٹ ری پبلک بینک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے11 نجی بینکوں پر مشتمل کنسورشیم فرسٹ ری پبلک بینک میں 30 ارب ڈالر جمع کروانے کا علان کیا۔ تاہم شیئرز کریش ہونے کی وجہ سے بینک ڈیفالٹ ہوگیا جس کے بعد ایک معاہدے کے تحت اسے جے پی مورگن نے اس کے تمام اثاثوں کو خرید لیا۔ جے پی مورگن نے ان سطور کی اشاعت کے وقت اعلان کیا ہے کہ وہ رواں برس کے اختتام تک آٹھ امریکی ریاستوں میں ری پبلک بینک کی 84برانچوں میں سے 21کو بند کر دے گا۔ یعنی6 ماہ کے دوران بینک اپنے درجنوں ملازمین کو بھی نوکری سے فارغ کردے گا۔ لاس اینجلس کے پیک ویسٹ بینک اور ایریزونا کے ویسٹرن الائنس بینک کے شیئرز کی قیمتوں میں 50فیصد سے زائد کمی کے بعد ریگولیٹرز نے دونوں بینکوں کے شیئرز کا لین دین بند کردیا۔

بینکوں کے دیوالیہ ہونے کی خبریں یکے بعد دیگرے سامنے آنے کے بعد امریکی عوام اپنا پیسہ بینکوں میں رکھنے سے گھبرا رہی ہے۔ امریکا کی فیڈرل ڈپازٹ انشورنس کارپوریشن (ایف ڈی آئی سی) ڈپازٹ ہولڈرز کو انشورنس فراہم کرتی ہے، اس کے مطابق سال 2023ء کی پہلی سہ ماہی میں امریکی شہریوں کی جانب سے بینکوں میں رقم ڈپازٹ کرنے میں 2.5فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ ایف ڈی آئی سی نے مزید 43امریکی بینکوں کو اس فہرست میں شامل کرلیا ہے کہ جن پر دیوالیہ ہونے کی تلوار لٹک رہی ہے جبکہ ان بینکوں کے مجموعی اثاثے 58ارب ڈالرز بنتے ہیں۔

قرض کے بوجھ کی وجہ سے امریکا کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں جن میں ملک میں عدم مساوات، صحت کی سہولتوں کا پہنچ سے دور ہونا، موسمیاتی تبدیلی، تعلیمی نظام کی ناکامی، معاشی ترقی میں رکاوٹ اور دیگر سیکیورٹی خطرات شامل ہیں۔ امریکا میں افراط زر بڑھ کر 8.4فیصد تک ہوگیا ہے جو گزشتہ 40 سال میں بلند ترین شرح ہے۔ عالمی سطح پر امریکی ڈالر زرمبادلہ کے ذخائر کے طور پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اگر کبھی بھی امریکا دیوالیہ ہوا تو اس کا اثر کسی نا کسی طرح پوری دنیا پر پڑے گا۔ بظاہر ڈالر کی قدر میں کمی دیگر ممالک کے لیے فائدہ مند ہے لیکن سوال یہ ہے کہ خوردنی تیل، پیٹرول، اناج اور دیگر اشیاء جن کی عالمی سطح پر خریداری ڈالرز میں ہوتی ہے، ان کی قیمتوں کے تعین میں امریکا کے ڈیفالٹ ہونے سے ہیجان کی کیفیت آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا کے بڑے ممالک اب آپس میں تجارت بارٹر سسٹم یا کسی دوسری کرنسی میں کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ برازیل، روس، چین، بھارت اور جنوبی افریقہ بھی تجارت کے لیے ایک نئی کرنسی پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان نے اپنے ہمسایہ ملکوں ایران اور افغانستان کے علاوہ روس کے ساتھ بارٹر تجارت کی اجازت دے دی ہے۔ امریکا کے حالات پر پوری دنیا کی نظر ہے اور تمام ممالک کو ہی اب عالمی تجارت کو کسی موثر اور محفوظ طریقہ کارمیں منتقل کرنے پر غور کرنا ہوگا۔