اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل سے متعلق کیس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ 21ویں آئینی ترمیم کا فیصلہ دیکھیں، مسلح افواج پر ہتھیار اٹھانے والوں پر آرمی ایکٹ کے نفاذ کا ذکر ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 6رکنی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کی، دیگر ججز میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں، جسٹس مظاہر علی نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بنچ کا حصہ ہیں۔
دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل غیر آئینی ہے، جسٹس منیب اختر نے کہاکہ فرض کریں ملک میں ایمرجنسی نافذ ہو اور صدر بنیادی حقوق معطل کردیں، کیا ایسی صورتحال میں سویلین یا ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہو سکتا ہے، کیا پاکستان کے ایسے علاقے جہاں عام عدالتیں نہ ہوں وہاں کیا ہو گا، 21ویں آئینی ترمیم میں اس کا جواب موجود ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ امریکا میں ایسے سویلین جو ریاست کے خلاف ہو جائیں ان کا ٹرائل کہاں ہوتا ہے، وکیل درخواست گزار نے کہاکہ امریکا میں ایسے افراد کا ٹرائل عام کورٹس کرتی ہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ فیصل صدیقی کے دلائل تھے مخصوص حالات میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوتا ہے۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ کیا ہمارے ریجن میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوتا ہے، وکیل درخواست گزار نے کہاکہ بھارت میں ایسا نہیں ہوتا، ہمیں سائوتھ ایشیائی ممالک میں سے کسی کی مثال دیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ 21ویں آئینی ترمیم کا فیصلہ دیکھیں، مسلح افواج پر ہتھیار اٹھانے والوں پر آرمی ایکٹ کے نفاذ کا ذکر ہے۔









