معاشی ماہرین نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ہونے والے معاہدے کو اچھی خبر قرار دیتے ہوئے اسے معاشی بے یقینی کا خاتمہ قرار دیدیا۔
نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صدر بینک آف پنجاب ظفر مسعود کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے ہونا ایک خوش آئند خبر ہے، لیکن آگے آنے والے مشکل حالات کیلئے بھی تیار رہنا ہوگا۔
معاشی ماہر خاقان نجیب نے کہا کہ اگر چین مدد نہ کرتا تو زرِ مبادلہ کے ذخائر پر پڑنے والا دباؤ پاکستان کی برداشت سے باہر ہوتا۔
امین ہاشوانی کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت اور تمام ادارے مل کر نہیں چلیں گے تب تک عوام کو ریلیف نہیں مل سکتا۔
معاشی ماہر اور تجزیہ نگار محمد سہیل نے کہا کہ اگر حکومت نے اصلاحات کرلیں تو نئی حکومت کو آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنے میں آسانی ہوگی۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے آئی ایم ایف سے معاہدہ معیشت کے لیے بڑا تحفہ قرار دے دیا جبکہ عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ملکی معیشت کی درست سمت کا تعین کرے گا۔
لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر کاشف انور نے کہا معاہدہ ممکنہ ڈیفالٹ کی قیاس آرائیوں کو ختم کردے گا۔
بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے کہا کہ روپیہ مضبوط ہوگا جس سے مہنگائی کم ہوگی، آئی ایم ایف معاہدہ مجموعی طور پر اچھی پیش رفت ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا ہے، عالمی مالیاتی ادارے اور پاکستان کے درمیان 3 ارب ڈالر کا یہ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کا معاہدہ ہے۔
اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری دے گا اور ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس جولائی کے وسط میں ہوگا۔
یہ بھی یاد رہے کہ نئے معاہدے سے قبل پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پروگرام کی مدت گزشتہ روز ختم ہوگئی تھی۔









