افغانستان میں طالبان نے خواتین کی ملازمت کے لیے چھوڑے گئے چند راستوں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق کابل اور دیگر صوبوں میں خواتین کے ذریعے چلائے جانے والے تمام بیوٹی سیلونز پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔
یہ حکم بھی دیا گیا کہ پابندی کا اطلاق فوری طور پر کیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے خواتین کو مختلف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، طالبان خواتین کو گھر میں رہنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
فی الحال اسپتالوں میں نرسوں اور ڈاکٹروں کے طور پر کام کرنا ہی واحد کام ہے جو افغانستان میں خواتین کر سکتی ہیں۔
اقوام متحدہ نے کہا کہ خواتین کے خلاف ایسے قوانین نے عالمی برادری کے لیے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔









