اسلام آباد (ممتازنیوز)صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری احسن ظفر بختاوری نے کہا ہے کہ سیاحت دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی انڈسٹریز میں شامل ہے،کئی ممالک سالانہ اربوں ڈالر صرف اس انڈسٹری کے ذریعے کما رہے ہیں،گزشتہ سال دنیا بھر میں 200ملین سے زائد سیاحوں نے مختلف ممالک کاسفر کیا،پاکستان سیاحت کے حوالے سے بے پناہ ذخیرہ ہونے کے باوجود متعدد وجوہات کی وجہ سے ابھی تک انٹر نیشنل ٹورزم سپاٹ نہیں بن سکا۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے تحت آئندہ ہفتے سکردو میں ہونے والی آئی سی سی آئی ٹورزم سمٹ عالمی سیاحت کو متوجہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔کانفرنس میں شریک ہونے والے مختلف ممالک کے سفراء ملک کا مثبت امیج دنیا تک پہنچانے کا سبب بنیں گے۔منگل کو جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عید کے دوان صرف چھٹوں میں لاکھوں سیاحوں نے کے پی کے اور شمالی علاقہ جات کا رخ کیا جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔انفراسٹرکچر کی کمی،ہوٹلنگ انڈسری میں ریگولیشنز نہ ہونے سمیت دیگر کئی رکاوٹوں کے باوجود ان علاقوں کی خوبصورتی سیاحوں کو اپنی جانب کھنچتی ہے۔پاکستان کے پاس کے پی کے،کشمیر اور بلخصوص شمالی علاقہ جات کی صورت میں دنیا بھر کے سیاحوں کو دیکھانے کیلئے بہترین سیاحتی ذخیرہ موجود ہے۔بہادر افواج،عوام اورسیکیورٹی اداروں کی کی قربانیوں کی وجہ سے سیکیورٹی کے حوالے سے بڑی اکاوٹ دور ہو چکی ہے۔ملکی جی ڈی پی میں ٹورزم انڈسٹری کا حصہ بڑھانے کیلئے غیر ملکی سیاحوں کو لانا ناگزیر ہے۔حکومت کو اس پر فوکس کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال دنیا میں ٹورزم انڈسری کے ذریعے2000ارب ڈالر کی کمائی کا امکان ہے جو 2018میں 1451 تھی۔سیاحت دنیا میں تیزی سے ترقی کرتی انڈسٹریز میں سر فہرست انڈسٹریز میں شامل ہے۔گزشتہ کچھ سالوں سے مسلم دنیا میں سیاحت کے حوالے سے کمی آئی ہے جس کی بڑی وجہ دہشت گردی کے واقعات ہیں۔مصر اپنی جی ڈی پی کا 50فیصد سیاحت سے کماتا آ رہا ہے۔اسی طرح ترکی،ملائشیا،مالدیپ،بعض افریقی ممالک،دبئی،سعودیہ عرب پاکستان کیلئے مثال ہیں جنہوں نے سیاحت پر بھرپور توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔عرب ممالک تیل سے اپنا انحصار ختم کر کے سیاحت اور دیگر انڈسٹریز پر فوکس کر رہے ہیں اس سلسلے میں دبئی اور سعودیہ عرب نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔پاکستان کو بھی ان ہی خطوط پر سوچنے کی ضرورت ہے۔عالمی سیاحوں کی توجہ پاکستان کی جانب مبذول کرانے کیلئے ہمیں ترکی ماڈل کو اپنانا ہوگا۔پاکستان کو ڈائریکٹ فلائٹس کی شروعات،ویزہ پروسس میں آسانی،ملکی سیاحتی مقامات کی انٹر نیشنل سطح پر برینڈنگ کی ضرورت ہے۔متعدد عالمی تنظیمیں پاکستان کو دنیا کا بہترین ٹورزم سپاٹ قرار دے چکے ہیں جبکہ کے ٹو،ناگا پربت سمیت دنیا کی متعدد بلند ترین چوٹیوں کی موجودگی میں پاکستان ایڈونچر سیاحت کا مرکز بھی بن سکتا ہے۔نیپال نے اپنی ایک چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کے ذریعے گزشتہ سال تقریبا 1300ملین ڈالر کمائے جبکہ دنیا کی بلند ترین 15چوٹیوں میں سے 6پاکستان میں ہیں۔مغربی دنیا میں ایڈونچر سیاحت کو اہمیت حاصل ہے۔حکومت کو اس سلسلے میں اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد چیمبر کے تحت ہونے والے ٹورزم کانفرنس کا بنیادی مقصد دنیا کو اس خوبصورت ترین خطے کی طرف راغب کرنا ہے۔مجھے امید ہے یہ کانفرنس شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے فروغ کیلئے سنگ میل ثابت ہو گی۔
آئی سی سی آئی ٹورزم سمٹ سیاحت کے فروغ کیلئے سنگ میل ثابت ہوگی،احسن بختاوری







